پشاور — پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کا الزام کسی ایک جماعت یا کسی ایک فیصلے پر عائد نہیں کیا جا سکتا اور کہا کہ اگر خیبرپختونخوا میں غیرآئینی طور طریقے سے حکومت قائم کی گئی تو وہ اسے چلنے نہیں دیں گے۔
پریس کانفرنس سے خطاب میں سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، سابق اسپیکر اسد قیصر اور پی ٹی آئی خیبرپختونخوا صدر جنید اکبر نے کہا کہ پی ٹی آئی قوم کے شہداء، ریاست اور قانون کے ساتھ کھڑی ہے اور صوبے اور ملک میں ترقی و استحکام کی خواہاں ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ صوبے میں آئینی تبدیلی کو روکا جا رہا ہے اور پارٹی کے افراد کو خوفزدہ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے تمام فریقین کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے اور اس کا حل صرف اسلحے سے نہیں ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پی ٹی آئی کے دور میں دہشت گردی کم سطح پر رہی اور اس عمل میں شفاف مشاورت کی ضرورت ہے۔
سابق اسپیکر اسد قیصر نے سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ کا جائز امیدوار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر غیرآئینی طور پر حکومت بنائی گئی تو پی ٹی آئی اس کی مزاحمت کرے گی۔ جنید اکبر نے کہا کہ پارٹی صوبائی مینڈیٹ کا دفاع کرے گی اور اپنے ووٹوں کا تحفظ یقینی بنائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی رکن کے ووٹ توڑے گئے تو پارٹی سخت قدم اٹھائے گی۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے چند روز قبل کہا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو جگہ دینے کے کیاں گئی ایک منصوبہ بندی کی گئی تھی اور اس کے منفی نتائج عوام برداشت کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس ضمن میں یک جہتی، عدالتی عمل اور کھلی مشاورت پر زور دیا ہے۔
