پاکستان کے دوا ساز نگران ادارے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈی آر اے پی)، نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ حالیہ سرکاری الرٹس میں جن ادویات اور بیچز کی نشاندہی کی گئی ہے، وہ جعلی، غیر معیاری، غلط لیبل شدہ یا اسپوریئس پائی گئی ہیں۔ اتھارٹی نے کہا ہے کہ شہری ایسی ادویات ہرگز استعمال نہ کریں، جبکہ فارمیسیوں، ڈسٹری بیوٹرز اور اسپتالوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ متعلقہ اسٹاک فوری طور پر علیحدہ کر کے فروخت بند کی جائے۔
سرکاری نوٹس کے مطابق D-Gest (Dydrogesterone 10 mg)، بیچ DGH007 میں سب سے تشویشناک خامی سامنے آئی۔ لیبارٹری تجزیے میں بتایا گیا کہ گولی میں درج شدہ فعال جزو موجود ہی نہیں تھا اور نتیجہ 0.0 ملی گرام فی ٹیبلٹ آیا۔ چونکہ یہ دوا حمل اور ہارمون سے متعلق بعض طبی حالات میں استعمال ہوتی ہے، اس لیے ڈی آر اے پی نے اسے زیادہ خطرے والا معاملہ قرار دیا۔
اسی طرح Gabica 300 mg، بیچ 518C27 کے بارے میں ریگولیٹر نے کہا کہ متعلقہ کمپنی نے برآمد شدہ نمونے سے لاتعلقی ظاہر کی۔ اتھارٹی کے مطابق کمپنی نے اپنے ریکارڈ اور ریٹین نمونے سے موازنہ کرنے کے بعد بتایا کہ یہ پراڈکٹ اس کی تیار کردہ نہیں۔ اس بنیاد پر معاملہ جعلی دوا کے زمرے میں لیا گیا۔
ایک اور اہم الرٹ Venofer 5 mL، بیچ 4721026AA سے متعلق تھا۔ ڈی آر اے پی کے مطابق یہ نمونہ بظاہر بیرون ملک تیار کردہ اور پاکستان میں درآمد شدہ اصل دوا کے طور پر پیش کیا گیا، مگر مجاز امپورٹر نے جسمانی موازنہ کے بعد اسے جعلی قرار دیا۔ لیبارٹری جانچ میں آئرن اور سکروز کے اجزا بھی مطلوبہ معیار پر پورے نہیں اترے، جس کے بعد اسے جعلی، غلط لیبل شدہ اور غیر معیاری قرار دیا گیا۔
اسی سلسلے میں Rhophylac 300 µg، بیچ P100707423 کے بارے میں بھی سخت انتباہ جاری کیا گیا۔ ڈی آر اے پی نے بتایا کہ درآمد کنندہ نے اس بیچ سے لاتعلقی ظاہر کی اور کہا کہ یہ قانونی طور پر اس کے ذریعے پاکستان نہیں لایا گیا۔ مزید یہ کہ نمونہ اسٹرلٹی ٹیسٹ میں بھی ناکام پایا گیا، جس کا مطلب ہے کہ اس میں آلودگی کا خطرہ موجود تھا۔ اتھارٹی کے مطابق ایسی انجیکشن ادویات مریضوں، خاص طور پر حاملہ خواتین اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد، کے لیے سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہیں۔
ڈی آر اے پی نے مارچ کے ایک اور الرٹ میں Caricef / Cefixime 400 mg capsule، بیچ LLM034 کا بھی ذکر کیا، جس میں لیبارٹری ٹیسٹ کے دوران cefixime کی عدم موجودگی رپورٹ ہوئی۔ ریگولیٹر نے ساتھ ہی پیکنگ، پرنٹنگ اور ہولوگرام میں فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ اصل پراڈکٹ نہیں تھی۔ اینٹی بایوٹک میں اس نوعیت کی خرابی خاص طور پر خطرناک سمجھی جاتی ہے کیونکہ مریض کو مطلوبہ علاج نہیں ملتا اور انفیکشن بڑھنے کا اندیشہ رہتا ہے۔
ڈی آر اے پی نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ ادویات صرف لائسنس یافتہ فارمیسیوں اور مجاز سپلائی چین سے خریدی جائیں، مشتبہ دوا استعمال نہ کی جائے، اور اگر کسی دوا کی اصلیت پر شبہ ہو تو ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے فوری مشورہ لیا جائے۔ اتھارٹی نے صوبائی ڈرگ کنٹرول اداروں اور فیلڈ فورس کو بھی ہدایت دی ہے کہ مارکیٹ سے متاثرہ بیچز ہٹانے کے لیے نگرانی سخت کی جائے۔
حالیہ انتباہات سے ایک بات واضح ہوتی ہے: مسئلہ صرف معمولی کوالٹی ڈیوی ایشن کا نہیں، بلکہ کئی کیسز میں دوا میں فعال جزو سرے سے موجود نہیں تھا، کچھ مصنوعات جعلی نکلیں، اور ایک انجیکشن پراڈکٹ میں جراثیمی آلودگی کا خطرہ بھی سامنے آیا۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس معاملے کو صرف ریگولیٹری کارروائی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ عوامی صحت کا مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔
