نیروبی، کینیا — کینیا کے سرکاری استغاثہ نے اعلان کیا ہے کہ وسطی کینیا کے ایک گرلز بورڈنگ اسکول میں ہاسٹل کو آگ لگنے کے المناک واقعے کے بعد متعدد طلبہ پر قتل کے مقدمات قائم کیے جائیں گے۔ اس حادثے میں 16 طالبات جان کی بازی ہار گئیں، جس کے بعد پورے ملک میں صدمے کی لہر دوڑ گئی اور اسکولوں میں حفاظتی اقدامات کے حوالے سے نئے سوالات جنم لینے لگے ہیں۔
یہ آگ 28 مئی کی رات آدھی رات کے کچھ دیر بعد نیروبی سے تقریباً 100 کلومیٹر شمال میں واقع گلگل کے اُتُمِشی گرلز اسکول کے ہاسٹل میں بھڑکی۔ اس ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں 15 سے 18 سال کی عمر کی 16 طالبات ہلاک جبکہ 100 سے زائد دیگر زخمی ہو گئیں۔
حکام کے مطابق تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی تھی، جس کے بعد نو طلبہ پر ہر ایک کے خلاف 16 افراد کے قتل کے الزامات عائد کیے جانے کی توقع ہے۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر ہاسٹل کے ایک دروازے کے قریب موجود گدے کو آگ لگائی گئی، جس کے باعث شعلے تیزی سے پوری عمارت میں پھیل گئے۔
تحقیقات کے دوران اسکول میں حفاظتی انتظامات کی سنگین خامیاں بھی سامنے آئیں۔ حکام کے مطابق حادثے کے وقت ہنگامی اخراج کا راستہ نہیں کھولا گیا، جس کی وجہ سے طالبات کو صرف ایک دروازے کے ذریعے باہر نکلنے کی کوشش کرنا پڑی۔ اس کے علاوہ ہاسٹل میں گنجائش سے زیادہ طلبہ کی موجودگی اور آگ سے متعلق حفاظتی قوانین پر عمل درآمد کے بارے میں بھی خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔
ڈائریکٹر آف پبلک پراسیکیوشنز کے دفتر نے کہا ہے کہ اس سانحے کے ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔ یہ مقدمہ قومی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے کیونکہ کینیا میں اسکولوں میں آتشزدگی کے واقعات بار بار پیش آتے رہے ہیں۔ کینیا ریڈ کراس کے مطابق صرف رواں سال ملک بھر میں اسکولوں میں آگ لگنے کے درجنوں واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
اس سانحے کے بعد تعلیمی حکام نے اسکول کی پرنسپل کو معطل کر دیا ہے اور تعلیمی اداروں میں حفاظتی انتظامات کا جامع جائزہ لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ حکومت نے مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام کے لیے آگ سے متعلق حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
کینیا میں اسکولوں میں آگ لگنے کے واقعات کئی برسوں سے ایک سنگین مسئلہ رہے ہیں۔ ان واقعات کی وجوہات میں ناکافی حفاظتی اقدامات، گنجائش سے زیادہ طلبہ کی موجودگی اور بعض صورتوں میں جان بوجھ کر آگ لگانے کے واقعات شامل ہیں۔ حالیہ سانحے نے طلبہ کے تحفظ اور اسکولوں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری کو بہتر بنانے کے لیے جامع اصلاحات کے مطالبات کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔
جیسے جیسے قانونی کارروائی آگے بڑھ رہی ہے، متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی ہلاکت کے حوالے سے جواب اور انصاف کے منتظر ہیں۔ یہ واقعہ حالیہ برسوں میں کینیا کے تعلیمی نظام میں پیش آنے والے سب سے ہولناک سانحات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
