کراچی پولیس کے اعلیٰ حکام نے منگل کے روز شہر کے مختلف تھانوں میں تعینات 11 اسٹیشن ہاؤس آفیسرز (ایس ایچ اوز) کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) کراچی کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق، ان افسران کو فوری طور پر پولیس ہیڈ کوارٹرز رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ان افسران کی برطرفی کی بنیادی وجہ ان کے خلاف جاری انضباطی تحقیقات اور فیلڈ میں ناقص کارکردگی ہے۔ یہ اقدام کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی لہر کے بعد پولیس کے فرنٹ لائن ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی کوشش ہے۔
محکمہ پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "محکمہ اب مزید تساہل کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جب کسی افسر کا ریکارڈ مہینوں سے جانچ پڑتال کے عمل سے گزر رہا ہو تو فیلڈ میں ان کا اختیار ختم ہو جاتا ہے۔ یہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کو بحال کرنے کی ایک کوشش ہے۔”
کراچی پولیس برسوں سے تبادلوں کے ایک روایتی چکر میں پھنسی ہوئی ہے۔ اکثر افسران سنگین الزامات اور زیر التواء شکایات کے باوجود حساس عہدوں پر دوبارہ تعینات کر دیے جاتے ہیں۔ اس حالیہ کارروائی کا مقصد اس روایت کو توڑنا ہے، تاہم ماہرین اس حوالے سے تاحال محتاط ہیں۔
جن تھانوں کے ایس ایچ اوز کو ہٹایا گیا ہے، ان میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جہاں حالیہ دنوں میں ڈکیتی اور گاڑی چھیننے کی وارداتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مقامی سطح پر طویل عرصے سے یہ شکایات سامنے آ رہی تھیں کہ ان علاقوں کے ایس ایچ اوز یا تو جرائم روکنے میں ناکام رہے ہیں یا پھر مبینہ طور پر مقامی مجرمانہ گروہوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔
اے آئی جی آفس کا یہ اقدام احتساب کے نئے اصولوں کے نفاذ کی جانب ایک اشارہ ہے۔ تاہم، اصل امتحان ان کی جگہ تعینات ہونے والے نئے افسران کا تقرر ہوگا۔ اگر یہ عہدے دوبارہ سیاسی اثر و رسوخ کے حامل افسران کو دیے گئے، تو اس انتظامی تبدیلی کو محض ایک روایتی ردوبدل ہی سمجھا جائے گا۔
پولیس حکام نے تاحال ان 11 افسران کے ناموں اور ان کے خلاف درج الزامات کی تفصیلی فہرست جاری نہیں کی ہے، اور موقف اختیار کیا ہے کہ تحقیقات کا عمل جاری ہے۔ فی الحال، ان تھانوں کا انتظام عارضی افسران کے سپرد کیا گیا ہے، جبکہ محکمہ اس کوشش میں ہے کہ ان تھانوں میں پیدا ہونے والا انتظامی خلا جلد پر کیا جائے تاکہ شہر کے ان علاقوں میں جرائم کی شرح مزید نہ بڑھے۔
