مٹھی — تھرپارکر کے مرکزی ہسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ صحت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے ابتدائی آٹھ ماہ میں مٹھی سول ہسپتال میں 480 نوزائیدہ بچے دم توڑ گئے۔ یہ تعداد اوسطاً روزانہ دو بچوں کی ہلاکت بنتی ہے۔
ہسپتال کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نومولود بچوں کی بڑی تعداد کو طبی امداد کی بروقت فراہمی ممکن نہیں ہو سکی۔ طبی ماہرین کے مطابق ہلاکتوں کی بڑی وجہ ماؤں میں خون کی کمی، غذائی قلت اور زچگی کے دوران طبی سہولیات کا فقدان ہے۔
"زیادہ تر خواتین ہسپتال تب پہنچتی ہیں جب پیچیدگیاں حد سے بڑھ چکی ہوتی ہیں،” ہسپتال کے ایک سینئر ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں سے ہسپتال تک کا طویل سفر اور بروقت تشخیص کا نہ ہونا بنیادی رکاوٹیں ہیں۔
صوبائی حکومت ہر سال تھر کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز اور موبائل ہیلتھ یونٹس کے اعلانات کرتی ہے، مگر زمینی حقائق مختلف ہیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ سرکاری فنڈز کا بڑا حصہ انتظامی غفلت اور بدانتظامی کی نذر ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہسپتالوں میں ادویات اور ماہر عملے کی کمی مستقل مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
یہ بحران صرف طبی نہیں بلکہ سماجی بھی ہے۔ دیہی علاقوں میں موجود فرسودہ روایات اور غربت کے باعث خواتین وقت پر ہسپتال کا رخ نہیں کر پاتیں۔ جب تک بنیادی صحت کے مراکز کو دیہات کی سطح پر فعال نہیں کیا جاتا، یہ ہلاکتیں محض اعداد و شمار کا حصہ بنتی رہیں گی۔
محکمہ صحت کی جانب سے ان اموات کی تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ ابھی سامنے آنا باقی ہے۔ لواحقین اپنے بچوں کو کھونے کے بعد انصاف اور بہتری کی امید لگائے بیٹھے ہیں، مگر اب تک کی صورتحال نے ہسپتال پر عوام کا اعتماد بری طرح مجروح کر دیا ہے۔
اگر یہی رفتار برقرار رہی تو سال کے اختتام تک یہ تعداد گزشتہ برسوں کے ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دے گی۔ تھر کے مکینوں کے لیے یہ ہسپتال اب زندگی کی امید نہیں، بلکہ ایک ایسا ادارہ بن چکا ہے جہاں ہر روز ننھی زندگیوں کے چراغ بجھ رہے ہیں۔
