سی سی ٹی وی کی دھندلی اور خاموش فوٹیج نے ڈاکٹر آکاش کے قتل کے حوالے سے قائم کیے گئے ابتدائی بیانیے کو چکنا چور کر دیا ہے۔ پولیس نے پہلے اسے ڈکیتی کی واردات قرار دیا تھا، لیکن منگل کی صبح منظر عام پر آنے والی فوٹیج ایک سوچے سمجھے، پیشہ ورانہ قتل کی کہانی بیان کر رہی ہے۔
ویڈیو میں ڈاکٹر آکاش کو پارکنگ کے تاریک کونے میں اپنی گاڑی کی طرف جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ اکیلے ہیں۔ چند سیکنڈ بعد، موٹر سائیکل پر سوار دو افراد ان کے قریب آتے ہیں۔ وہ نہ تو پرس مانگتے ہیں اور نہ ہی موبائل فون۔ پیچھے بیٹھا شخص اترتا ہے، پستول نکالتا ہے اور قریب سے گولی مار کر اپنے ساتھی کے ساتھ فرار ہو جاتا ہے۔ پورا واقعہ پندرہ سیکنڈ سے بھی کم وقت میں مکمل ہوتا ہے۔
پولیس حکام، جو پہلے اسے سٹریٹ کرائم سمجھ کر تفتیش کر رہے تھے، اب اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہے ہیں۔ حملے میں دکھائی گئی مہارت بتاتی ہے کہ یہ کوئی اتفاقی واردات نہیں بلکہ ایک ٹارگٹ کلنگ ہے۔
جائے وقوعہ پر موجود ایک اعلیٰ پولیس افسر نے نامہ نگاروں کو بتایا، "ہم متعدد پہلوؤں سے تفتیش کر رہے ہیں۔ فوٹیج نے تحقیقات کا رخ مکمل طور پر موڑ دیا ہے۔ یہ ڈکیتی نہیں تھی۔”
مقتول کے ساتھی صدمے میں ہیں۔ ہسپتال کے انتظامی امور میں اصلاحات کے لیے آواز اٹھانے والے ڈاکٹر آکاش کو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دھمکیاں مل رہی تھیں۔ ان کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے مقامی حکام سے تحفظ کی اپیل کی تھی، لیکن ان کی درخواستوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔
اس علاقے میں سکیورٹی کا فقدان—حالانکہ یہ طبی ماہرین کے لیے ایک مصروف ترین مقام ہے—عوامی غیض و غضب کا باعث بن رہا ہے۔ شہر بھر کے ڈاکٹروں نے ہڑتال کی دھمکی دی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے اور اس بات کی تحقیقات کی جائیں کہ سکیورٹی کے خدشات کو کیوں نظر انداز کیا گیا۔
فی الحال، یہ فوٹیج ہی واحد گواہ ہے۔ اس میں حملہ آوروں کی موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ واضح دیکھی جا سکتی ہے، جسے تفتیش کار اب ڈیٹا بیس سے چیک کر رہے ہیں۔
محکمہ پولیس نے تاحال کسی ملزم کا نام ظاہر نہیں کیا، لیکن دباؤ بڑھ رہا ہے۔ جیسے جیسے تحقیقات کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، ایک سوال شدت سے اٹھ رہا ہے: اگر ڈاکٹر آکاش کو پہلے ہی دھمکیاں مل رہی تھیں، تو انہیں اکیلے گاڑی تک جانے کے لیے کیوں چھوڑا گیا؟
