پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں تقسیم کی ذمہ داری بانی چیئرمین عمران خان کی بہن علیمہ خان پر عائد ہوتی ہے۔
جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد جاری ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ “میں نے خان صاحب کو بتایا کہ پارٹی کے اندر بڑی تقسیم پیدا ہوچکی ہے، اور علیمہ خان کو چیئرپرسن بنانے کے حوالے سے مہمات چلائی جا رہی ہیں، جس سے کارکنوں میں مایوسی اور گروپ بندی بڑھ رہی ہے۔”
گنڈاپور کا کہنا تھا کہ علیمہ خان پارٹی کو غیر ضروری معاملات میں الجھا رہی ہیں جبکہ بانی چیئرمین کی رہائی کے لیے کوئی مؤثر حکمتِ عملی سامنے نہیں آ رہی۔
’9 مئی کے بعد نرمی اور تقسیم‘
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں کئی رہنما اور کارکن موجود ہی نہیں تھے، اس کے باوجود انہیں سزائیں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ علیمہ خان کے بیٹے کو گرفتار کیا گیا لیکن تین دن کے اندر ضمانت مل گئی۔
ان کے بقول، “ادارے ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور کوئی شخص جان بوجھ کر یا کسی مصلحت کے تحت ان کے لیے کام کر رہا ہے۔”
’وزیراعظم علیمہ خان‘ مہم پر اعتراض
گنڈاپور نے صحافی حفیظ اللہ نیازی کے کالمز اور سوشل میڈیا مہمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “’وزیراعظم علیمہ خان‘ کے نعرے پارٹی میں تقسیم پیدا کر رہے ہیں۔ میں نے خان صاحب کو صاف بتایا کہ اگر آپ انہیں چیئرپرسن نامزد کرتے ہیں تو ہم قبول کریں گے، لیکن مہم کے ذریعے یہ عمل پارٹی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔”
’مائنس عمران خان ممکن نہیں‘
انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کو ہٹانے کی کوئی سوچ یا جرات پارٹی کے اندر موجود نہیں ہے۔
صوبائی کابینہ سے فیصل ترکئی اور عاقب خان کے استعفوں پر انہوں نے کہا کہ یہ معمول کے حکومتی معاملات ہیں اور دونوں وزرا کو اعتماد میں لینے کے بعد ہٹایا گیا۔
’اسرائیل کبھی قبول نہیں‘
ویڈیو پیغام کے آخر میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ “ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہمارا مؤقف واضح ہے کہ ہم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔”
