واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹیو آرڈر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر پر کسی بھی مسلح حملے کو امریکا اپنی سلامتی پر حملہ تصور کرے گا۔ اس حکم نامے کے مطابق امریکا قطر کے دفاع کے لیے ہر قسم کے اقدامات کرے گا، جن میں سفارتی، اقتصادی اور ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔
یہ حکم ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب 9 ستمبر کو دوحہ میں اسرائیلی حملے میں حماس رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ قطر نے اسے "بزدلانہ اور غداری پر مبنی کارروائی” قرار دیا تھا۔
ایگزیکٹیو آرڈر میں قطر کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کا وعدہ کیا گیا اور کہا گیا کہ قطر کی سرزمین یا اہم تنصیبات پر کسی بھی حملے کو امریکا براہِ راست اپنے خلاف کارروائی سمجھے گا۔
قطری وزیر اعظم اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان ٹرمپ کی موجودگی میں بات چیت بھی ہوئی، جس میں اسرائیل نے قطر کے ایک شہری کی ہلاکت پر معافی مانگی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی حالیہ دورۂ دوحہ میں کہا کہ امریکا-قطر سیکیورٹی پارٹنرشپ خطے میں امن و استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔
