چین کی مشہور و معروف عظیم دیوار نے پہلی بار ایک فیشن رن وے کا روپ اختیار کیا — مگر یہ تقریب صرف لباسوں کی نہیں، فن، دوستی اور ثقافتی ہم آہنگی کی کہانی تھی۔
19 اکتوبر 2025 کو پاکستان اور چین کے معروف ڈیزائنرز نے بیجنگ کے قریب بادالنگ (Badaling) حصے میں ایک تاریخی فیشن شو پیش کیا، جسے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ فیشن شو پاکستانی سفارتخانے، بیجنگ اور چائنا انٹرنیشنل کلچرل کمیونی کیشن سینٹر (CICCC) کے اشتراک سے منعقد کیا گیا — جس میں صدیوں پرانی ثقافتی وراثت کو جدید فیشن کے رنگوں کے ساتھ جوڑا گیا۔
پتھروں پر رن وے — تاریخ کے سینے پر نیا باب
جب سورج غروب ہونے لگا تو ماڈلز نے قدیم دیوار کے پتھروں پر قدم رکھتے ہوئے دلکش ملبوسات پیش کیے۔ ہاتھ سے کڑھائی والے کپڑے، روایتی سندھی اجرک کے ڈیزائن، اور مغلیہ دور کی جھلک لیے ہوئے لباسوں نے ایک خواب سا سماں باندھ دیا۔
پاکستان کی جانب سے معروف ڈیزائنرز ماہین خان، معظم عباسی، عائشہ طارق، رضوان اللہ، اور زین ہاشمی نے اپنے کلیکشن پیش کیے۔
چین کی نمائندگی لیانگ سُیون (Liang Suyun) اور چین میں مقیم پاکستانی جیولری ڈیزائنر عقیل چوہدری نے کی، جنہوں نے دونوں ممالک کے انداز کو ایک منفرد انداز میں یکجا کیا۔
پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے تقریب کے دوران کہا:
“یہ شو صرف فیشن نہیں — یہ ہمارے دو ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی، فن اور خوبصورتی کی مشترکہ زبان کا جشن ہے۔”
جب فیشن بن گیا سفارتکاری
دیوارِ چین، جو ہمیشہ طاقت اور تاریخ کی علامت رہی ہے، اس رات فن اور ہم آہنگی کی علامت بن گئی۔
سی آئی سی سی سی کے چیئرمین لانگ یو شیانگ (Long Yuxiang) نے کہا کہ یہ تقریب “پاک–چین کی لازوال دوستی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔”
ان کے مطابق، اس طرح کے ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو محض سفارتی سطح سے اوپر لے جا کر عوامی دلوں تک پہنچاتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی حصہ وہ مقام بھی ہے جہاں پاکستانی رہنماؤں نے 60 سال پہلے پہلا سرکاری دورہ کیا تھا — جس سے اس تقریب کی تاریخی اہمیت مزید بڑھ گئی۔
روایتوں کا رنگ، دو ثقافتوں کی سنگت
دونوں ممالک کے ڈیزائنرز نے اپنے تجربات کو “یادگار” قرار دیا۔
پاکستانی کپڑوں کی خوبصورت کڑھائی، ہاتھ سے بنے ڈیزائن، اور روایتی رنگ جب چینی سادگی اور نفاست سے ملے تو ایک ایسا امتزاج سامنے آیا جو دل کو چھو جائے۔
ڈیزائنر ماہین خان نے بعد میں کہا:
“جب میں نے دیکھا کہ ہماری تخلیقات دیوارِ چین پر چل رہی ہیں — تو دل بھر آیا۔ یہ فیشن نہیں، یہ سفارتکاری کی نرم ترین شکل تھی۔”
فیشن سے آگے کی بات
یہ تقریب محض ثقافتی نہیں بلکہ کاروباری امکانات کے لیے بھی ایک سنگ میل سمجھی جا رہی ہے۔
پاکستان کے ٹیکسٹائل اور فیشن سیکٹر کے لیے چین کی وسیع مارکیٹ ایک نیا موقع فراہم کر سکتی ہے۔
سفیر خلیل ہاشمی کے مطابق، اس طرح کے ایونٹس نہ صرف پاکستان کی فیشن انڈسٹری کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرتے ہیں بلکہ مستقبل میں فلم، آرٹ اور ڈیزائن کے شعبوں میں بھی پاک–چین تعاون کی نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔
ایک لمحہ جو تاریخ میں گونجتا رہے گا
جب شو اختتام پذیر ہوا تو دیوارِ چین کے پتھروں کے درمیان تالیوں کی گونج سنائی دی — ایک ایسا لمحہ جو شاید وقت کی گرد میں بھی ماند نہ پڑے۔
اس رات، پاکستانی اور چینی فنکاروں، ڈیزائنرز اور سفارتکاروں نے صرف فیشن نہیں دکھایا — بلکہ ایک مشترکہ خواب پیش کیا:
کہ سرحدیں چاہے پتھروں کی ہوں، مگر فن اور خوبصورتی ہمیشہ دلوں کو جوڑتی ہیں۔
