نومبر 5، 2025
ویب ڈیسک
2015ء میں پیرس معاہدے کے تحت دنیا بھر کے ممالک نے یہ وعدہ کیا تھا کہ صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھا جائے گا۔ تاہم، اقوامِ متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اب یہ ہدف حاصل کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ حکومتی وعدے اور منصوبے پوری طرح نافذ بھی کر دیے جائیں، تب بھی اس صدی کے اختتام تک درجہ حرارت میں اضافہ 2.3 سے 2.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس حد سے زیادہ درجہ حرارت میں اضافہ دنیا بھر کے ماحولیاتی نظام، معیشتوں اور کمزور آبادیوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ عالمی حدت کو 1.5 ڈگری کے اندر رکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ شدید موسمی تغیرات، سمندری سطح میں خطرناک اضافہ اور حیاتیاتی تنوع کے زوال جیسے اثرات سے بچا جا سکے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر فوری اور جامع اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا پیرس معاہدے کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو سکتی ہے، جس کے نتائج آئندہ نسلوں کے لیے سنگین ثابت ہوں گے۔
