یہ ہر روز نہیں ہوتا کہ فلسطینی سنیما کو دنیا کے سب سے بڑے فلمی اسٹیج — آسکر — پر اتنی نمایاں جگہ ملے۔
لیکن اس سال، تین فلسطینی فلمیں، جو تین مختلف ادوار کی نمائندگی کرتی ہیں، عالمی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔
یہ فلمیں تقریباً ایک صدی پر محیط فلسطینی زندگی، جدوجہد، اور شناخت کی داستان سناتی ہیں —
یروشلم کے نوآبادیاتی دور سے لے کر آج کے محصور غزہ تک۔
1. “فلسطین 36” — ماضی جو آج بھی زندہ لگتا ہے
ہدایت کارہ انماری جَعسیر کی فلم فلسطین 36 ہمیں 1936 کے یروشلم میں لے جاتی ہے، جب برطانوی راج کے خلاف عرب بغاوت اپنے عروج پر تھی۔
مگر کہانی چاہے پرانی ہو، احساسات — خوف، مزاحمت، اور حوصلہ — آج کے فلسطین جیسے ہی محسوس ہوتے ہیں۔
یہ فلم عام فلسطینیوں کی زندگی کو مرکز میں رکھتی ہے۔ کوئی بڑے رہنما یا سیاسی کردار نہیں — صرف وہ لوگ جو روزمرہ زندگی میں جبر، محبت، اور نقصان کے درمیان سانس لیتے ہیں۔
ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں ناقدین نے کہا: “یہ فلم تاریخ نہیں، آئینہ ہے — جو موجودہ فلسطین کا عکس دکھاتی ہے۔”
یہی وجہ ہے کہ فلسطین 36 کو فلسطین کی جانب سے آسکر میں بہترین غیر ملکی فلم کے لیے باضابطہ طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
اگر یہ فلم نامزدگی حاصل کرلیتی ہے تو یہ نہ صرف جعسیر بلکہ فلسطینی سنیما کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہوگا۔
2. “آل دیٹس لیفٹ آف یو” — یاد ہی سب سے بڑی مزاحمت ہے
فلسطینی نژاد امریکی فلم ساز شیرین دعبیس کی فلم All That’s Left of You تین نسلوں پر محیط کہانی ہے —
ایک ایسے خاندان کی جو امّان، حیفا اور جلاوطنی کے درمیان بکھرا ہوا ہے۔
یہ فلم جنگ کے بارے میں نہیں، بلکہ جنگ کے بعد کی خاموشیوں کے بارے میں ہے —
وہ زخم جو نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں، وہ زبانیں جو مدھم پڑ جاتی ہیں، اور وہ وطن جو یادوں میں قید رہتا ہے۔
اردن نے اس فلم کو اپنی جانب سے آسکر میں پیش کیا ہے، جبکہ معروف اداکاروں جیسے ہاویر بارڈم اور مارک رفالو نے اس کی پروڈکشن میں معاونت کی ہے۔
ایک ناقد کے الفاظ میں: “یہ فلم صرف فلسطین کے بارے میں نہیں، بلکہ اس بارے میں ہے کہ یاد کیسے مٹنے سے انکار کرتی ہے۔”
3. “دی وائس آف ہند رجب” — غزہ کا درد، حقیقی وقت میں
اور آخر میں دی وائس آف ہند رجب — شاید ان تینوں میں سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی فلم۔
تیونس کی ہدایت کارہ کاؤثر بن ہنیہ نے یہ فلم چھ سالہ ہند رجب کی سچی کہانی پر بنائی ہے،
جو اس سال کے آغاز میں غزہ میں ایک اسرائیلی حملے کے دوران اپنی جان سے گئی۔
ہند کی وہ دل خراش فون کال، جس میں وہ اپنی جان بچانے کی التجا کرتی ہے، اس فلم کا مرکزی محور ہے۔
تیونس نے اسے اپنی طرف سے آسکر میں جمع کرایا ہے، اور وینس فلم فیسٹیول میں اس فلم کو زبردست پذیرائی ملی۔
یہ فلم دیکھنا آسان نہیں، لیکن شاید اسی لیے ضروری ہے۔
کیونکہ بعض کہانیاں خاموش رہنے کے لیے نہیں ہوتیں۔
ایک صدی، ایک تسلسل: فلسطین کی کہانی اب خود فلسطینی سنا رہے ہیں
یروشلم کے 1936 سے لے کر غزہ کے 2024 تک — یہ تین فلمیں صرف تاریخ نہیں،
یہ ایک قوم کی اجتماعی یاد، اس کی بقا، اور اس کے فن کی مزاحمت ہیں۔
ان میں سے ہر فلم ایک الگ دور کی گواہی دیتی ہے،
لیکن پیغام ایک ہی ہے: فلسطینی کہانیاں ختم نہیں ہوئیں، وہ اب صرف زیادہ زور سے سنائی جا رہی ہیں۔
جیسا کہ ایک عرب ناقد نے لکھا:
“1936 سے 2024 تک، فلسطین اب دوسروں کی کہانی کا حصہ نہیں، بلکہ خود اپنی کہانی کا مرکزی کردار بن چکا ہے۔”
