بالی ووڈ اداکارہ کاجول نے حال ہی میں اپنی او ٹی ٹی شو میں یہ کہہ کر نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ شادیوں میں بھی ایکسپائری ڈیٹ اور ری نیول آپشن ہونا چاہیے۔ کاجول کے اس جملے نے سوشل میڈیا پر خوب ہلچل مچائی، جہاں لوگوں نے اسے جدید دور کے بدلتے رشتوں سے جوڑ کر دیکھا۔
گفتگو کے دوران ٹوئنکل کھنہ نے سوال اٹھایا کہ کیا شادی کو مدت کے ساتھ باندھ دینا چاہیے؟ کاجول نے فوراً ہاں میں جواب دیا، جبکہ ٹوئنکل کھنہ، وکی کوشل اور کریتی سینن اس خیال سے اتفاق نہ کرسکے۔
کاجول نے کہا،
“میرا سچ میں یہ ماننا ہے کہ ہمیں کیا پتہ ہم نے صحیح انسان کو صحیح وقت پر چُنا یا نہیں؟ اگر شادی میں ایکسپائری ڈیٹ ہو تو لوگ ضرورت سے زیادہ دکھ بھی نہیں سہتے۔ ری نیول کا آپشن عقل مندانہ بات لگتی ہے۔”
اس بیان کے بعد جب ردِعمل بڑھنے لگا تو کاجول کے شوہر اور معروف اداکار اجے دیوگن نے ایک علیحدہ انٹرویو میں اپنے خیالات سامنے رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ محبت کی گہرائی آج کے دور میں کم ہوچکی ہے۔
اجے نے کہا،
“محبت عام سی چیز بن گئی ہے۔ ’آئی لو یو‘ کے الفاظ اب اتنے آسانی سے کہے جاتے ہیں کہ ان کی گہرائی ہی کھو گئی ہے۔ ہمارے وقت میں یہ لفظ بولنا بہت بڑی بات ہوتی تھی۔ آج لوگ ان لفظوں کا وزن سمجھتے ہی نہیں۔”
اداکار آر مادھون نے بھی اجے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پرانے وقتوں میں محبت بہت سنجیدگی سے کی جاتی تھی، اور ایک چھوٹا سا کارڈ بھی گہری جذباتی اہمیت رکھتا تھا۔
اجے نے مزید کہا کہ اب ہر میسج کے آخر میں صرف دل کا ایموجی یا ’لوّ‘ لکھ کر بات ختم کردی جاتی ہے، جس سے جذبات کی اصل شدت کہیں کھو جاتی ہے۔
کاجول اور اجے دیوگن کی پہلی ملاقات 1995 کی فلم ہُلچُل کے سیٹ پر ہوئی تھی، جس کے چار سال بعد دونوں نے شادی کرلی۔ آج بھی شوبز دنیا میں انہیں ایک مضبوط اور کامیاب جوڑے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
