بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ کرپشن پاکستان کی معاشی استحکام کی راہ میں بڑی اور مسلسل رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور اس صورتحال میں اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کو فوری طور پر اپنی پہلی سالانہ رپورٹ جاری کرکے شفافیت بڑھانا ہوگی۔ آئی ایم ایف کی گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ (GCD) جو آئندہ 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری کے لیے ضروری ہے میں کہا گیا ہے کہ کرپشن نہ صرف عوامی اعتماد کو کمزور کر رہی ہے بلکہ معاشی ترقی کو بھی شدید متاثر کر رہی ہے اور ریاستی اداروں کی کارکردگی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا کہ ایس آئی ایف سی اپنی کارروائیوں کے واضح اصول وضع کرے اور تمام سرمایہ کاری معاہدوں کی تفصیلات جاری کرے، جن میں دی گئی ٹیکس، پالیسی اور ریگولیٹری رعایتیں، ان کی وجوہات اور ان کی مالی قدر شامل ہو۔
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کے حکومتی نظام میں کرپشن گہرائی تک جڑیں پکڑ چکی ہے جس کی وجہ سے ٹیکس وصولی کمزور ہوئی، عوامی اخراجات غیر مؤثر بنے اور عدالتی نظام پر اعتماد میں کمی آئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک کے اہم معاشی شعبوں پر وہ بااثر اور مراعات یافتہ گروہ اثر انداز ہوتے ہیں جو ریاستی اداروں سے جڑے ہوئے ہیں۔ آئی ایم ایف نے کمزور احتسابی ڈھانچے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس کرپشن سے منسلک منی لانڈرنگ روکنے کا کوئی واضح اور مضبوط نظام موجود نہیں۔ اگرچہ نیب اور ایف آئی اے کو ایسے معاملات کی تحقیقات کا قانونی اختیار حاصل ہے، لیکن ان کیسز سے متعلق کارروائیاں اور سزائیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور سہ ماہی میٹنگز کے باوجود نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آتی۔
رپورٹ میں سیاسی مداخلت اور قوانین کے غیر مساوی اطلاق کو پاکستان کی اینٹی کرپشن کوششوں کی سب سے بڑی کمزوری قرار دیا گیا۔ سرکاری افسران اکثر فیصلے کرنے سے گھبراتے ہیں کیونکہ انہیں نیب کی جانب سے ممکنہ طور پر چن کر تحقیقات کیے جانے کا خوف رہتا ہے۔ ماضی میں نیب کے اختیارات کے غلط استعمال نے اس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں رشوت کو “ضروری برائی” سمجھنے کا رجحان بڑھ گیا ہے اور سرکاری معاملات میں غیرضروری تاخیر عام ہوتی جا رہی ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کا اثاثہ ڈیکلیریشن سسٹم اگرچہ کچھ مضبوط ہوا ہے، لیکن اس میں اب بھی جامع جانچ پڑتال اور رسک بیسڈ ویریفکیشن کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے چھپائے گئے اثاثوں کی نشاندہی مشکل رہتی ہے۔ رپورٹ نے عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے بھی خدشات ظاہر کیے، خاص طور پر سپریم کورٹ کے ججز کی تقرری کے طریقہ کار میں حالیہ تبدیلیوں اور ان پر اٹھنے والے آئینی سوالات نے قانون کی بالادستی پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
آئی ایم ایف نے آخر میں کہا کہ اگر پاکستان آئندہ تین سے چھ ماہ میں جامع گورننس اصلاحات نافذ کرے تو وہ اپنی معاشی ترقی کی شرح کو اگلے پانچ سال میں 5 سے 6.5 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔
