اسلام آباد – ایف بی آر نے ملک بھر میں مہنگے بیوٹی پارلرز اور بھاری فیس لینے والے ڈاکٹرز پر کڑی نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام اس خدشے کے بعد اٹھایا گیا ہے کہ کئی ادارے اپنی آمدن درست طریقے سے ظاہر نہیں کر رہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد بڑے بیوٹی سیلونز اور میڈیکل کلینکس کے مالی ریکارڈ میں بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، جس کے بعد ایف بی آر کی ٹیمیں ان کے آمدنی کے گوشوارے، مریضوں اور کلائنٹس کی تعداد اور سروس چارجز کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہیں۔
اس کارروائی پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ لوگ اسے مثبت احتسابی قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض نے ممکنہ دباؤ اور مشکلات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ امید ہے اس نگرانی سے قیمتوں میں شفافیت آئے گی اور غیرضروری مہنگائی پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی۔
