کراچی— کلفٹن بلاک 2 چائنہ ٹاؤن کے قریب گراؤنڈ سے منگل کی رات ایک نامعلوم خاتون کی ہاتھ پاؤں بندھی تشدد زدہ لاش ملی، جس کا چہرہ بری طرح مسخ تھا۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے شناخت چھپانے کے لیے خاتون کے چہرے کو جھلسایا یا کچلا تھا۔
پولیس اور ریسکیو ٹیموں نے موقع معائنہ کے بعد لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا۔ ایس ایچ او راشد علی کے مطابق مقتولہ کی عمر 40 سے 45 سال کے درمیان ہے، جسے اغوا کے بعد قتل کرکے وہاں پھینکا گیا۔
لاش کے قریب سے ایک پرس بھی ملا جس میں ماسک اور موزے موجود تھے تاہم کوئی شناختی دستاویز برآمد نہ ہوئی۔ خاتون کا ایک جوتا موقع سے اور دوسرا اس کے پاؤں سے ملا۔ فنگر پرنٹس بھی متاثر ہونے کے باعث بایومیٹرک شناخت میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
پولیس جائے وقوعہ کے اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ملزمان تک پہنچا جا سکے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق پوسٹ مارٹم مکمل کر کے نمونے محفوظ کر لیے گئے ہیں۔
بعدازاں مقتولہ کی شناخت 49 سالہ شہناز کے نام سے ہوئی، جب اس کے بیٹے عادل مسیح نے کپڑوں سے اسے پہچانا۔ شہناز ہفتے کی رات بلدیہ ٹاؤن میں واقع اپنے گھر سے باہر نکلی تھیں جس کے بعد لاپتہ ہوگئیں۔ بچوں نے اس کی گمشدگی کی اطلاع مدینہ کالونی تھانے میں درج کرا دی تھی۔
بیٹے کے مطابق ان کی کسی سے دشمنی نہیں اور والدہ کرایے کے مکان میں رہتی تھیں۔ مقتولہ تین بیٹوں اور دو بیٹیوں کی والدہ تھی۔
پولیس نے ریاست کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ نمبر 926/2025 درج کر کے تفتیش کلفٹن ڈویژن کے حوالے کر دی ہے۔ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی جائے گی۔
