وزیرِاعظم کے مشیر اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے جمعرات کو گزشتہ دورِ حکومت کی اسٹیبلشمنٹ کو پاکستان میں ہونے والی ’’تباہی‘‘ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ملکی استحکام ہے، نہ کہ سیاسی انتقام۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی اور وہ قوتیں جنہوں نے انہیں 2018 میں اقتدار دلایا، ملک کو جس بحران کا شکار کیا، اس کے اثرات اب تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی بھرپور کوششوں کے باوجود اُس دور میں پیدا ہونے والا انتشار ’’ابھی تک پوری طرح ٹھیک نہیں ہوا‘‘۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اُس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھی اس تباہی کی ذمہ دار ہے اور اس سلسلے میں جنرل فیض حمید پہلے ہی ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی فی الحال کوئی ترجیح احتساب نہیں،
بلکہ ’’ہماری اصل توجہ ملک کو سنبھالنے پر ہے‘‘۔انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ حکومت اپنے اتحادیوں خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے تعاون سے اپنی مدت پوری کرے گی۔ مشیر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ حکومت نے سندھ کے گورنر کے ممکنہ تقرر کے معاملے پر پیپلز پارٹی سے مشاورت کی ہے اور ان کے تحفظات دور کرنے پر کام جاری ہے۔
آئی ایم ایف رپورٹ کی کوئی اہمیت نہیں: رانا ثناء اللہ
مشیرِ وزیراعظم نے آئی ایم ایف کی حالیہ کرپشن رپورٹ کو ’’غیر اہم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت اور سابق پی ڈی ایم حکومت میں کرپشن کا کوئی اسکینڈل سامنے نہیں آیا۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف کی جانب سے نشاندہی کردہ خامیوں کو دور کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ مسلسل کرپشن اور کمزور ادارے پاکستان کی معاشی ترقی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
’’پی ٹی آئی بانی بالکل صحت مند ہیں‘‘
عمران خان کی صحت سے متعلق افواہوں پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بھارتی میڈیا جھوٹی خبریں پھیلا رہا ہے۔
’’پی ٹی آئی بانی مکمل طور پر صحت مند ہیں اور باقاعدہ ورزش بھی کر رہے ہیں،‘‘ انہوں نے بتایا۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عمران خان کو کسی دوسری جیل منتقل کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ بھارت مئی کے تنازع میں شکست کے بعد ’’آپریشن سندور‘‘ افغانستان کے ذریعے چلا رہا ہے اور مالی مدد کے ذریعے افغانستان کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ جنگ مسلط کرنے کی کوئی خواہش نہیں۔
