ابوظہبی اس ہفتے کچھ مختلف سا محسوس ہو رہا ہے۔ مانارات السعدیات کے ہالوں میں قدم رکھتے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ شہر کی ثقافتی نبض پہلے سے تیز دھڑک رہی ہے۔ ابوظہبی آرٹ فئیر 2025 نہ صرف اپنے سائز میں بڑا ہے بلکہ ماحول میں بھی ایک نیا جوش، ایک نیا پیغام لے کر آیا ہے۔
19 سے 23 نومبر تک جاری رہنے والا یہ فئیر اپنے 17ویں ایڈیشن میں داخل ہو چکا ہے، اور اس بار اس کی جھلک پہلے سے زیادہ بین الاقوامی اور پختہ دکھائی دیتی ہے۔
سب سے بڑی اور سب سے متنوع ایڈیشن
اس سال فئیر میں 140 سے زائد گیلریز اور 35 سے زیادہ ممالک کی نمائندگی شامل ہے۔
ایک طرف یورپ اور ایشیا کی معروف گیلریز، دوسری جانب افریقی اور خلیجی آرٹسٹوں کے شاہکار — اور انہی کے درمیان ابھرتے ہوئے اماراتی فنکاروں کے تجرباتی کام۔
یہ امتزاج فئیر کی اصل طاقت ہے۔ ہر موڑ پر کوئی نیا رنگ، نئی کہانی یا نیا تجربہ آپ کو روک لیتا ہے۔
خصوصی نمائشیں اور نمایاں منصوبے
اس سال کی خاص جھلک “بیانڈ ایمرجنگ آرٹسٹس” پروگرام ہے، جس میں تین نوجوان فنکار —
علّا عبدالنبی، سلمہ المنصوری اور مکتوم مروان المکتوم — اپنی نئی تنصیبات اور خیالات کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔
یہ منصوبہ معروف آرٹسٹ و کیوریٹر عصام کُورباج کی نگرانی میں پیش کیا گیا ہے۔ ان کاموں میں خاموشی بھی ہے اور مکالمہ بھی — دیکھنے والا لمحے بھر کو رک کر سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
فئیر میں ترکی، خلیجی خطے اور افریقہ پر خصوصی فوکس بھی نمایاں ہے، جو خطے کے ثقافتی تنوع کو ایک نئی سمت دیتا ہے۔
ماحول — صرف نمائش نہیں، ایک تخلیقی تجربہ
اگر کوئی سمجھتا ہے کہ آرٹ فئیر کا مطلب صرف دیواروں پر لگی تصویریں ہیں، تو ابوظہبی آرٹ فئیر 2025 اس خیال کو فوراً بدل دیتا ہے۔
ہالوں میں موسیقی کی ہلکی سرگوشیاں، زائرین کے درمیان گفتگو، مختلف زبانوں کی آوازیں، لائیو پرفارمنس، ورکشاپس — یہ سب فئیر کو ایک زندہ، متحرک ماحول دیتے ہیں۔
طلبہ گروپوں کی صورت میں گھومتے ہیں، سیاح تصویریں کھینچتے ہیں، اور کلیکٹرز خاموشی سے وہ کام تلاش کر رہے ہوتے ہیں جس پر ان کی نظر ٹھہر سکے۔
یہ محض ایک نمائش نہیں، ایک مسلسل چلتا مکالمہ ہے — فن سے، فنکاروں سے، اور ایک بدلتے ہوئے خطے سے۔
یہ فئیر کیوں اہم ہے؟
گزشتہ چند برسوں میں امارات نے اپنے آپ کو عالمی ثقافتی نقشے پر مضبوطی سے جگہ دی ہے۔
میوزیمز، تخلیقی پروگرام، فنکاروں کے لیے سپورٹ — یہ سب ابوظہبی کو مشرق اور مغرب کے درمیان ایک تخلیقی پل بناتے جا رہے ہیں۔
2025 کا آرٹ فئیر اسی سفر کا ایک اہم موڑ محسوس ہوتا ہے۔
یہ صرف دنیا کو یہاں بلا نہیں رہا — یہ خطے کی اپنی شناخت اور اپنی تخلیقی آواز بھی مضبوط کر رہا ہے۔
اختتام — ایک یادگار تجربہ
غروبِ آفتاب کے وقت مانارات السعدیات سے باہر نکلتے ہوئے جو ہوا کا نرم جھونکا، روشنیوں کا کھیل، اور لوگوں کی خوشگوار گفتگو سنائی دیتی ہے — وہ محسوسات دیر تک ذہن میں رہ جاتے ہیں۔
ابوظہبی آرٹ فئیر 2025 صرف دیکھنے کی چیز نہیں، ایک تجربہ ہے۔
ایک لمحہ۔
ایک احساس۔
جو شاید آپ کے ساتھ بہت دیر تک چلتا ہے۔
