کراچی کی آرٹس کونسل میں پیر کی شام معمول سے کہیں زیادہ چہل پہل تھی۔ کہیں ڈھول کی تھاپ گونج رہی تھی، تو کہیں فنکار اور طلبہ نئے تعمیر شدہ حصوں کا جائزہ لیتے دکھائی دیتے تھے۔ اسی ماحول میں وزیرِاعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اسکول آف ویژوئل اینڈ پرفارمنگ آرٹس (SOVAPA) کی نئی تزئین و آرائش شدہ عمارت کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
یہ تقریب ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025 کے دوران منعقد ہوئی، جس میں مختلف ممالک کے سفارتکار، فنکار، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
جدید سہولیات — ایک بالکل نیا تعلیمی ماحول
عمارت میں داخل ہوتے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ صرف مرمت نہیں، بلکہ مکمل اندازِ نو سے تعمیر کی گئی ہے۔
زیرِ زمین حصوں کو وسعت دی گئی، پرانی ساخت کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے جدید سہولیات سے ہم آہنگ کیا گیا، اور تمام شعبوں کو ایک ہی چھت کے نیچے منظم انداز میں ترتیب دیا گیا ہے۔
اب یہاں فائن آرٹس، تھیٹر، موسیقی، ٹیکسٹائل ڈیزائن اور کمیونیکیشن کے شعبے باقاعدہ کلاس رومز اور جدید تربیتی سہولتوں کے ساتھ موجود ہیں۔
افتتاح کے موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ منصوبہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ “تخلیقی نوجوانوں میں سرمایہ کاری” ہے، اور حکومت چاہتی ہے کہ یہ ادارہ مستقبل میں ایک مکمل آرٹس یونیورسٹی کی بنیاد بنے۔
رنگ، موسیقی اور بین الاقوامی موجودگی — افتتاح ایک تہوار جیسا
تقریب کا آغاز معروف لوک فنکار فضل جٹ اور ان کے گروپ کی ڈھول پرفارمنس سے ہوا، جس نے ماحول کو مکمل ثقافتی رنگ دے دیا۔
ہال کے اندر جاپان، عراق، سنگاپور اور دیگر ممالک کے فنکار موجود تھے جو فیسٹیول میں شرکت کے لیے کراچی آئے ہوئے تھے۔
ایک دل چُھولینے والا لمحہ وہ بھی تھا جب وزیراعلیٰ نے سنگاپور کی اُس ڈانس ٹیم سے ملاقات کی جس میں ڈاؤن سنڈروم کے بچے بھی شامل تھے۔ اس منظر نے تقریب کو محض رسمی افتتاح سے بڑھا کر ایک شمولیتی ثقافتی جشن بنا دیا۔
یہ افتتاح کیوں اہم ہے؟
SOVAPA برسوں میں آہستہ آہستہ ایک ایسے ادارے میں بدلا ہے جس نے پاکستان کے تھیٹر، موسیقی اور ڈیزائن کے کئی نامور فنکار تیار کیے۔
لیکن انفراسٹرکچر ہمیشہ اس سفر کے مقابلے میں کمزور رہا۔
نئی عمارت اس کمی کو پورا کرنے کی طرف ایک مضبوط قدم ہے۔
یہ نہ صرف فنکاروں بلکہ اُن نوجوانوں کے لیے بھی بڑا موقع ہے جو کم وسائل کے باوجود آرٹس میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
کراچی کے لیے یہ پیغام بھی ہے کہ ثقافت اور فن محض شوق نہیں — شہر کی شناخت اور ترقی کا حصہ ہیں۔
ایک امید افزا شام کا اختتام
تقریب کے بعد جب مہمان باہر نکل رہے تھے، آرٹس کونسل کا صحن اب بھی گفتگوؤں، مسکراہٹوں اور کیمروں کی چمک سے بھرا ہوا تھا۔
پرانے فنکار اپنے شاگردوں سے مل رہے تھے، نوجوان طلبہ نئے خوابوں پر بات کر رہے تھے، اور سب کے چہروں پر ایک ہی تاثر تھا —
یہ آغاز ہے… اور بہت ممکن ہے کہ یہ کراچی کے آرٹس منظرنامے کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہو۔
