اسپاٹیفائی کی سالانہ درجہ بندی سامنے آتے ہی پاکستانی موسیقی کے معروف پروڈیوسر اور ریپر عمیر طاہر نے ایک بار پھر اپنا نام ملک کے دوسرے سب سے زیادہ اسٹریم کیے جانے والے آرٹسٹ کے طور پر درج کروا لیا۔
یہ کامیابی تو بڑی تھی ہی، لیکن عمیر نے اسے اپنے مداحوں کیلئے ایک جذباتی لمحے میں بدل دیا، جب انہوں نے انسٹاگرام پر ایک تفصیلی اور دلی نوٹ شیئر کیا۔
ابتدا ہی میں انہوں نے لکھا، “سمجھ نہیں آرہا کہاں سے شروع کروں۔” ساتھ ہی انہوں نے تصویروں کا ایک سلسلہ پوسٹ کیا، جس میں چند پروفیشنل اسٹوڈیو شاٹس تھے اور کچھ عام دنوں کے بے تکلف لمحات۔ ان سب نے مل کر ایک سفر کی جھلک دکھائی۔
سفر کی شروعات، چند سو روپے کے ایئر فون سے
اپنے پیغام میں عمیر نے 2016 کا ذکر کیا، وہ دن جب وہ انتہائی محدود وسائل کے ساتھ موسیقی بنا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس صرف سستے، چند سو روپے والے ایئر فون ہوتے تھے جن پر بیٹھ کر وہ بیٹس تیار کرتے تھے۔
آج وہ اسی ملک کی موسیقی کی فہرست میں دوسری بار ٹاپ پوزیشنز میں کھڑے ہیں۔ یہ تضاد، شاید یہی، ان کیلئے سب سے حیران کن اور اہم تھا۔
انہوں نے لکھا، “یہ سب غیر حقیقی لگتا ہے۔ جب بھی آپ ‘پلے’ دباتے ہیں، میری زندگی کو اس سے کہیں بڑا بنا دیتے ہیں جس کا میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔”
وہ کامیابی جو دل کے سب سے قریب تھی
عمیر کے نوٹ کا سب سے اثر انگیز حصہ وہ تھا جب انہوں نے بتایا کہ اس سال کی محنت اور کامیابی نے انہیں اپنی والدہ کیلئے “ایک اچھی، بڑی سی گھر” خریدنے کے قابل بنایا۔
یہ ان کی والدہ کی دیرینہ خواہش تھی، اور اسے پورا کرنا شاید ان کیلئے چارٹ کی کامیابیوں سے بھی بڑھ کر تھا۔
مداحوں نے ان کے اس اعتراف کو بے حد سراہا۔ بہت سے تبصروں میں لوگ اس خوشی میں ان کے ساتھ شریک دکھائی دیے۔ کچھ نے انہیں درجہ بندی پر مبارکباد دی، مگر اکثر نے گھر خریدنے والے حصے کو دل سے محسوس کیا۔
پاکستانی موسیقی کا بدلتا ہوا منظرنامہ
عمیر کی اس پوزیشن سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں موسیقی کے رجحانات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ نوجوان سامعین اب انڈی موسیقاروں، پروڈیوسرز اور ریپرز کو بھرپور انداز میں اپناتے جا رہے ہیں۔
خاص طور پر وہ لوگ جنہوں نے روایتی انڈسٹری سے ہٹ کر اپنا راستہ بنانے کی کوشش کی, اب قومی سطح پر نمایاں جگہ بنا رہے ہیں۔
عمیر کا انسٹاگرام نوٹ محض شکریہ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جب انہوں نے اپنی کامیابی، جدوجہد اور اس سفر کے چھوٹے بڑے زاویے مداحوں کے ساتھ بانٹے۔ شاید یہی سچائی اس پیغام کو مزید مؤثر بنا گئی۔
اور لگتا یہی ہے کہ یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔
