واشنگٹن میں ہونے والی شاندار ڈرا تقریب کے بعد فیفا ورلڈ کپ 2026 کے تمام گروپس کی تصویر واضح ہو گئی ہے، جس نے 48 ٹیموں کے پہلے تاریخی ایڈیشن کی سمت اور ممکنہ سفر کو صاف کر دیا ہے۔ امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تقریب کے دوران فیفا کا خصوصی ’’امن ایوارڈ‘‘ بھی دیا گیا، جس کے بعد ڈرا کا آغاز ہوا۔
یہ میگا ایونٹ 11 جون سے شروع ہو گا جبکہ مکمل شیڈول، مقامات اور کک آف ٹائمنگ کی تفصیلات فیفا صدر جیانی انفانتینو ہفتہ کو باضابطہ طور پر جاری کریں گے، جس کے بعد تمام ٹیمیں صرف حکمتِ عملی اور تیاریوں پر فوکس کر سکیں گی۔
عالمی چیمپئن ارجنٹائن اپنی مہم کا آغاز الجزائر کے خلاف کرے گی، جبکہ اسی گروپ J میں آسٹریا اور پہلی بار ورلڈ کپ کھیلنے والی جورڈن بھی شامل ہے۔ 2022 قطر ٹائٹل کے دفاع کا سفر بظاہر آسان مگر دباؤ سے بھرپور ہوگا۔
یورپی چیمپئن اسپین کو بھی سازگار ابتدا ملی ہے۔ گروپ H میں اسپین کا پہلا مقابلہ ڈیبیوٹنٹ کیپ وردے سے ہوگا، اگلے چیلنجز یوروگوئے اور سعودی عرب ہوں گے۔
تھامس ٹخیل کی زیرِ نگرانی انگلینڈ 1966 کے بعد پہلی بار عالمی ٹرافی کی تلاش میں میدان میں اترے گی۔ گروپ L میں انگلینڈ کے مقابل کروشیا، گھانا اور پاناما ہوں گے اور فیفا رینکنگ اور اسکواڈ کی بنیاد پر انگلینڈ فیورٹ تصور کی جا رہی ہے۔
دو بار کی فاتح فرانس کو گروپ I میں نسبتاً پیچیدہ صورتحال درپیش ہوگی۔ سینیگال اور ایرلنگ ہالینڈ کی ناروے سخت امتحان ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ گروپ میں آخری نشست عراق، بولیویا یا سورینام میں سے کسی ایک پلے آف ونر کو ملے گی۔
تاریخ میں پہلی بار فیفا نے اس انداز میں ڈرا ترتیب دیا کہ اسپین، ارجنٹائن، فرانس اور انگلینڈ سیمی فائنل سے پہلے آمنے سامنے نہ آئیں۔ مگر اس بار گروپ مرحلے کے بعد براہِ راست ایک اضافی ناک آؤٹ راؤنڈ شامل ہونے سے راستہ مزید کٹھن اور ہر غلطی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
دنیا کی نظریں اب صرف اس بات پر مرکوز ہیں کہ مکمل شیڈول کے اعلان کے بعد کن مقابلوں میں ابتدائی دھماکہ خیز ٹکراؤ سامنے آتے ہیں—کیونکہ 48 ٹیموں کا یہ ورلڈ کپ صرف بڑا نہیں بلکہ نتائج کے اعتبار سے انتہائی غیر متوقع بھی ثابت ہو سکتا ہے
