راولپنڈی میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ممکنہ احتجاج اور لیاقت باغ میں جماعتِ اسلامی کے اجتماع کے پیشِ نظر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 1,300 سے زائد پولیس افسران اور سیکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں، حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی۔
پولیس حکام کے مطابق سیاسی کشیدگی کے پیشِ نظر شہر بھر میں سیکیورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا ہے۔ حساس مقامات، اہم چوراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر سخت نگرانی رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو۔
سیکیورٹی منصوبے کے تحت دو سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (ایس پیز)، سات ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (ڈی ایس پیز)، 29 انسپکٹرز اور اسٹیشن ہاؤس افسران (ایس ایچ اوز)، 92 اپر سب آرڈینیٹس اور 340 کانسٹیبلز تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایلیٹ فورس کے سات دستے، ریپڈ ایمرجنسی اینڈ سیکیورٹی آپریشنز (ریسو) کے 22 اہلکار اور اینٹی رائٹس مینجمنٹ ونگ کے 400 اہلکار بھی ڈیوٹی پر مامور ہیں۔
شہر بھر میں 32 پولیس پکٹس قائم کی گئی ہیں، جن میں سے ہر پکٹ کی نگرانی ایک سینئر افسر کر رہا ہے، جبکہ ایلیٹ فورس کے کمانڈوز مسلسل گشت کر رہے ہیں۔ اہلکاروں کو اینٹی رائٹ کٹس فراہم کی گئی ہیں جن میں آنسو گیس لانچرز اور ربڑ کی گولیاں شامل ہیں۔
سخت سیکیورٹی والے علاقوں میں لیاقت باغ، کمیٹی چوک، چندنی چوک، فوارہ چوک، منڈی موڑ، کیرج فیکٹری، فیض آباد کے دونوں اطراف، صادق آباد، میٹرو اسٹیشن صدر، 22 نمبر چونگی، چوہڑ چوک اور ایم ایچ چوک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اڈیالہ جیل جانے والے راستوں اور چک بیلی موڑ، تھلیاں انٹرچینج، چکری انٹرچینج اور جوریان پر خصوصی پکٹس قائم کی گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تمام اہلکاروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اضافی نفری پولیس اسٹیشنز اور سیکیورٹی ڈویژن میں اسٹینڈ بائی رکھی گئی ہے۔
سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) خالد ہمدانی کمانڈ اینڈ کنٹرول کے امور کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ مجموعی نگرانی سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ملک طارق محمود کر رہے ہیں۔
سیکیورٹی انتظامات سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں 17 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں کیے گئے ہیں۔
پی ٹی آئی قیادت نے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے پارٹی بانی سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے مطابق عمران خان نے کارکنان اور حامیوں کو ممکنہ اسٹریٹ موومنٹ کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ سیکیورٹی اقدامات احتیاطی نوعیت کے ہیں اور ان کا مقصد عوام کے تحفظ، اہم تنصیبات کی حفاظت اور شہر میں امن و امان کو یقینی بنانا ہے۔
