پاکستان میں اینٹی بائیوٹکس کا غیر ضروری اور غلط استعمال سالانہ لاکھوں مریضوں کی اموات کا سبب بن رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں دواؤں کے غیر ضروری اور غلط استعمال سے سالانہ 2 سے 3 لاکھ افراد جاں بحق ہو جاتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس (اے ایم آر) اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بیکٹیریا، وائرس، فنگس یا پیراسائٹس وقت کے ساتھ دواؤں کے خلاف مزاحم یا طاقت ور ہو جاتے ہیں، جس سے عام علاج بے اثر ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کا خطرہ زیادہ ہے، کیوں کہ یہاں دوائیں بغیر ڈاکٹری نسخے کے لینا، اور ادویات کا نامکمل یا غیر ضروری استعمال عام ہے۔ جب کہ اسپتالوں میں ناقص انفیکشن کنٹرول، لائیو اسٹاک اور پولٹری میں زائد اینٹی بائیوٹک، اور کمزور نگرانی و رپورٹنگ سسٹمز موجود ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق بڑے اسپتالوں میں آئی سی یو کے 40 سے 70 فیصد مریض ایسے انفیکشنز کا شکار ہیں۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 126 ارب روپے کی اینٹی بائیوٹکس استعمال کی جاتی ہیں۔ اس صورت حال میں ماہرین دواؤں کے غیر ضروری اور غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت قوانین کے نفاذ اور عوام میں آگاہی پر زور دیتے ہیں۔
