ٹی بی ایک خاموش قاتل اور خطرناک بیماری ہے جس کی علامات بروقت تشخیص اور مکمل علاج ہی مرض سے بچاؤ کا واحد راستہ ہے۔
ٹی بی (تپ دق) ایک سنگین اور متعدی بیماری ہے جو عموماً پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے، تاہم یہ جسم کے دیگر اہم اعضا جیسے دل، گردے، ہڈیاں اور دماغ کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے۔
یہ بیماری مائکو بیکٹیریم تپ دق نامی جراثیم کے ذریعے سے پھیلتی ہے جو ہوا کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے، دنیا بھر میں یہ بیماری اب بھی ایک بڑا صحت کا مسئلہ ہے اور ہر سال لاکھوں افراد اس کا شکار ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ٹی بی کو صرف پھیپھڑوں کی بیماری سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، درحقیقت اس کی ایک قسم "ایکسٹرا پلمونری ٹی بی” بھی ہے جو جسم کے دیگر حصوں جیسے لمف نوڈز، ہڈیوں اور دماغ کو متاثر کرتی ہے۔
یہ قسم اکثر بغیر واضح علامات کے خاموشی سے بڑھتی رہتی ہے، جس کی وجہ سے اس کی تشخیص میں تاخیر ہوجاتی ہے اور پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال تقریباً 10.6 ملین افراد ٹی بی کا شکار ہوئے، جن میں 15 سے 20فیصد کیسز ایکسٹرا پلمونری ٹی بی کے تھے۔
پاکستان، بھارت اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں اس بیماری کا خطرہ زیادہ ہے، خصوصاً بچوں، خواتین اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد میں اس کی علامات زیادہ پائی جاتی ہیں۔
ٹی بی کے تین مراحل ہوتے ہیں، پرائمری انفیکشن، لیٹنٹ انفیکشن اور فعال بیماری۔ ابتدائی مراحل میں اکثر کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں، تاہم فعال ٹی بی میں شدید کھانسی، خون آنا، بخار، رات کو پسینہ، وزن میں کمی، تھکاوٹ اور سینے میں درد جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
پھیپھڑوں کے علاوہ جب ٹی بی لمف نوڈز کو متاثر کرتی ہے تو گردن یا جسم کے دیگر حصوں میں بغیر درد کی سوجن پیدا ہوتی ہے، جبکہ ہڈیوں خصوصاً ریڑھ کی ہڈی کی ٹی بی میں مسلسل کمر درد ہوتا ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی بی قابل علاج بیماری ہے، بشرطیکہ بروقت تشخیص اور مکمل علاج کیا جائے۔ لیٹنٹ ٹی بی کا علاج عام طور پر 3 سے 4 ماہ جبکہ فعال ٹی بی کا علاج 4 سے 9 ماہ تک جاری رہتا ہے۔ مریض کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوا کا مکمل کورس مکمل کرے تاکہ بیماری جڑ سے ختم ہو اور دوا کے خلاف مزاحمت پیدا نہ ہو۔
