MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
Health

الزائمر کی ادویات پر نئی بحث: کیا فائدہ واقعی اتنا کم ہے؟

Last updated: اپریل 16, 2026 1:20 شام
Amna Iqbal
Share
SHARE

الزائمر کی بیماری کے علاج سے متعلق ایک نئی سائنسی جانچ نے پھر وہی پرانا مگر نہایت اہم سوال زندہ کر دیا ہے: اگر کوئی دوا بیماری کی رفتار کچھ حد تک سست کرے، تو کیا یہ اتنا فائدہ ہے کہ اسے واقعی مؤثر کہا جا سکے؟

16 اپریل 2026 کو شائع ہونے والے ایک نئے کوکرین جائزے میں کہا گیا کہ اینٹی امائلائیڈ مونوکلونل اینٹی باڈیز الزائمر کے ابتدائی مرحلے کے مریضوں میں دماغ میں امائلائیڈ ضرور کم کرتی ہیں، لیکن یادداشت، سوچنے کی صلاحیت یا مجموعی بیماری کی شدت میں “طبی اعتبار سے معنی خیز” بہتری غالباً بہت محدود یا نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس جائزے میں 17 آزمائشوں اور 20,342 شرکا کے اعداد و شمار شامل تھے، جبکہ دماغی سوجن اور خون رسنے جیسے مضر اثرات کے خطرات کی بھی نشاندہی کی گئی۔

یہی نکتہ اصل تنازع بن گیا ہے۔ یعنی بحث اس پر نہیں کہ دوائیں کچھ کرتی بھی ہیں یا نہیں، بلکہ اس پر ہے کہ جو اثر دکھائی دیتا ہے، کیا وہ مریض اور اس کے گھر والوں کی روزمرہ زندگی میں واقعی محسوس بھی ہوتا ہے یا نہیں۔ بہت سے ماہرین کہتے ہیں کہ شماریاتی فرق اور عملی فرق ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔

اس بحث کے مرکز میں دو دوائیں ہیں: لیقیمبی (Lecanemab / Leqembi) اور ڈونانیمیب (Donanemab / Kisunla)۔ امریکی ایف ڈی اے کے مطابق یہ ادویات ان مریضوں کے لیے منظور کی گئی ہیں جن میں الزائمر بیماری ابتدائی مرحلے میں ہو، یعنی ہلکی ذہنی کمزوری یا ہلکی ڈیمینشیا موجود ہو اور امائلائیڈ پیتھالوجی کی تصدیق بھی ہو۔ ان دواؤں کے لیبلز میں ARIA یعنی دماغی سوجن یا خون رسنے سے متعلق نمایاں انتباہات بھی شامل ہیں۔

تاہم ان ادویات کے حامیوں نے نئی رپورٹ پر فوراً اعتراض اٹھایا۔ ان کا مؤقف ہے کہ کوکرین جائزے نے پرانی ناکام اینٹی باڈی ادویات کو نئی منظور شدہ دواؤں کے ساتھ ایک ہی زمرے میں جمع کر دیا، جس سے تصویر دھندلی ہو جاتی ہے۔ برطانیہ کے سائنس میڈیا سینٹر پر ردِعمل دینے والے متعدد ماہرین نے کہا کہ نئے مؤثر مالیکیولز کو اُن پرانی ادویات کے ساتھ ملا کر دیکھنا، جو کبھی کامیاب ہی نہیں ہوئیں، سادہ مگر گمراہ کن طریقہ ہو سکتا ہے۔

اس اعتراض کی بنیاد بھی موجود ہے۔ CLARITY AD آزمائش میں لیکینیمیب نے 18 ماہ کے عرصے میں پلیسبو کے مقابلے میں مرض کی رفتار کم دکھائی، جبکہ TRAILBLAZER-ALZ 2 آزمائش میں ڈونانیمیب نے بھی ابتدائی علامتی الزائمر کے مریضوں میں بیماری کے بگاڑ کو نسبتاً سست کیا۔ یہ نتائج کوئی معجزہ نہیں سمجھے گئے، لیکن اتنے ضرور تھے کہ امریکی ریگولیٹرز نے انہیں منظوری کے قابل مانا۔

دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ مسئلہ یہی ہے: فائدہ موجود ہو سکتا ہے، مگر بہت معمولی۔ کچھ ماہرین کے مطابق آزمائشوں میں نظر آنے والا اوسط اثر اتنا کم تھا کہ ایک فرد کی سطح پر وہ روزمرہ معائنے یا گھر کے ماحول میں واضح طور پر محسوس نہ ہو۔ ان کے نزدیک برسوں سے ان ادویات کے بارے میں جو امید باندھی گئی، اس نے سائنسی نتائج کو بعض اوقات اصل سے زیادہ روشن بنا کر پیش کیا۔

مریضوں اور اہلِ خانہ کے لیے اصل الجھن بھی یہی ہے۔ کیونکہ حقیقت شاید دونوں انتہاؤں کے بیچ میں ہے۔ نئی دوائیں کچھ منتخب مریضوں میں بیماری کی رفتار سست کرتی دکھائی دیتی ہیں، لیکن ان کے ساتھ باقاعدہ انفیوژن، ایم آر آئی نگرانی، جینیاتی اور طبی اسکریننگ، اور ممکنہ مضر اثرات کا خطرہ بھی جڑا ہوا ہے۔ سوال صرف “کیا دوا کام کرتی ہے؟” نہیں رہا، بلکہ اب یہ ہے: “کیا یہ اتنا کام کرتی ہے کہ اس کی قیمت، خطرہ اور مشقت درست ثابت ہو؟”

عالمی سطح پر پالیسی ساز ادارے بھی اس سوال کا ایک سا جواب نہیں دے رہے۔ برطانیہ کے نائس (NICE) نے جون 2025 کی اپنی حتمی مسودہ رہنمائی میں کہا تھا کہ لیکینیمیب اور ڈونانیمیب کے فوائد این ایچ ایس پر اضافی لاگت کے مقابلے میں کافی نہیں۔ ادارے کے مطابق ان دواؤں سے ہلکی سے درمیانی شدت کے مرحلے تک پہنچنے میں تقریباً چار سے چھ ماہ کی تاخیر ہو سکتی ہے، لیکن مجموعی مالی بوجھ، انتظامی پیچیدگی اور محدود فائدے کو دیکھتے ہوئے یہ جواز ناکافی سمجھا گیا۔ بعد میں اس معاملے پر مزید مشاورت بھی کی گئی، جس سے واضح ہے کہ بحث ابھی ختم نہیں ہوئی۔

اس سارے معاملے میں ایک اور اہم پہلو بھی ہے۔ الزائمر تحقیق اب پہلے کی نسبت زیادہ احتیاط سے بات کر رہی ہے۔ کئی سائنس دان اب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ امائلائیڈ کو کم کرنا شاید مکمل حل نہیں۔ سوزش، جینیاتی عوامل، خون کی شریانوں کی حالت، اور علاج کے شروع ہونے کا وقت — یہ سب شاید طے کرتے ہیں کہ کسی مریض کو فائدہ ہوگا بھی یا نہیں۔ گویا میدان آگے تو بڑھا ہے، مگر بہت آہستہ۔

یوں دیکھا جائے تو موجودہ تنازع صرف یہ نہیں کہ اینٹی امائلائیڈ ادویات “ناکام” ہیں یا “انقلابی”۔ اصل سوال معیار کا ہے: بیماری کی رفتار میں کتنی کمی کو بامعنی سمجھا جائے؟ کتنے خطرے کو قابلِ قبول مانا جائے؟ اور صحت کا نظام چند مہینوں کی تاخیر کے لیے کتنی قیمت ادا کرے؟ نئی رپورٹ نے بحث اس لیے تیز کی ہے کہ اس نے امید اور حقیقت کے درمیان موجود فاصلہ دوبارہ سب کے سامنے رکھ دیا ہے۔ الزائمر کے علاج میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ابھی وہ پیش رفت محدود، محتاط اور شدید بحث طلب ہے۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article جنگلی حیات کی واپسی کے لیے خیراتی ادارے کی فنڈ ریزنگ مہم تیز جنگلی حیات کی واپسی کے لیے خیراتی ادارے کی فنڈ ریزنگ مہم تیز
Next Article ’بیف‘ سیزن 2: بڑی کاسٹ، بڑا دائرہ — مگر ابتدائی جائزوں میں کہانی پر سوال
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
کراچی پورٹ پر کثیرالمقاصد کارگو ہینڈلنگ کے نئے مرحلے کا آغاز
کراچی پورٹ پر کثیرالمقاصد کارگو ہینڈلنگ کے نئے مرحلے کا آغاز
کاروبار اور تجارت
اکتوبر 2, 2026
آئی ایم ایف اقتصادی جائزہ مذاکرات، گیس اور بجلی کے گردشی قرضے پر تشویش
آئی ایم ایف اقتصادی جائزہ مذاکرات، گیس اور بجلی کے گردشی قرضے پر تشویش
کاروبار اور تجارت
اکتوبر 2, 2026
نئی آٹو پالیسی پر آئی ایم ایف سے اتفاق نہ ہو سکا، مزید مشاورت کا فیصلہ
نئی آٹو پالیسی پر آئی ایم ایف سے اتفاق نہ ہو سکا، مزید مشاورت کا فیصلہ
کاروبار اور تجارت
اکتوبر 2, 2026
امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو تیسرے ممالک میں تارکینِ وطن کی بے دخلی دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی
امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو تیسرے ممالک میں تارکینِ وطن کی بے دخلی دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی
کاروبار اور تجارت
اکتوبر 2, 2026
صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن لانے میں مشکلات
صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن لانے میں مشکلات
Maritime تازہ ترین
اکتوبر 1, 2026
امریکی قونصل جنرل کا کراچی پورٹ کا دورہ، جدیدکاری اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو
امریکی قونصل جنرل کا کراچی پورٹ کا دورہ، جدیدکاری اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026

You Might Also Like

Health

99 اضلاع میں یکم ستمبر سے انسداد پولیو مہم شروع، ٹیم کی مصطفیٰ کمال کو بریفنگ

By Neha Ashraf
سندھ میں خسرہ کی وبا شدت اختیار کر گئی، 40 اموات رپورٹ
Health

سندھ میں خسرہ کی وبا شدت اختیار کر گئی، 40 اموات رپورٹ

By Misbah Jogyat
Health

وزارتِ صحت اور ڈریپ کا ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے خلاف عالمی تعاون اور مقامی تیاری کی جانب اہم قدم

By Neha Ashraf
جے ایس ایم یو کی تحقیق: کراچی میں ادویات کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کے غیر محفوظ طریقوں کا انکشاف
Health

جے ایس ایم یو کی تحقیق: کراچی میں ادویات کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کے غیر محفوظ طریقوں کا انکشاف

By Misbah Jogyat
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?