واشنگٹن ڈی سی میں وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے امریکی محکمہ خزانہ کے فرانسس بروک سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری کے امکانات، اور باہمی مالی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب 2026 کے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اسپرنگ میٹنگز 13 سے 18 اپریل تک واشنگٹن میں جاری ہیں اور پاکستان وہاں متعدد اعلیٰ سطحی رابطوں میں مصروف ہے۔
ملاقات میں وزیر خزانہ نے امریکی فریق کو پاکستان کی معیشت میں حالیہ بہتری، جاری اصلاحاتی ایجنڈے، اور ان شعبوں کے بارے میں بریفنگ دی جہاں اسلام آباد امریکی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ خاص طور پر معدنیات، توانائی، اور دیگر پیداواری شعبوں میں شراکت کے امکانات پر زور دیا گیا۔ پاکستانی مؤقف یہ رہا کہ میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے اب اگلا مرحلہ نجی سرمایہ کاری، برآمدات، اور پائیدار نمو کی طرف بڑھنا ہے۔
اس ملاقات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اس دورۂ امریکا کے دوران 50 سے زیادہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں۔ سرکاری اور معتبر میڈیا رپورٹس کے مطابق ان رابطوں کا مقصد صرف مالیاتی اداروں سے بات چیت نہیں بلکہ امریکا سمیت بڑے شراکت داروں، سرمایہ کاروں، اور پالیسی سازوں کے سامنے پاکستان کی معاشی سمت، اصلاحات، اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کو اجاگر کرنا بھی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کی سرکاری فہرست کے مطابق فرانسس بروک اس وقت محکمہ خزانہ میں ایک اہم عہدے پر فائز ہیں اور بین الاقوامی معاشی امور سے متعلق کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔ اسی لیے ان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو محض رسمی ملاقات نہیں بلکہ پاکستان کی جانب سے واشنگٹن میں معاشی سفارت کاری کے ایک وسیع تر سلسلے کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
پس منظر میں دیکھا جائے تو پاکستان پچھلے کچھ عرصے سے امریکا کے ساتھ معاشی رابطوں کو نئی جہت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی وزیر خزانہ امریکی سفارتی اور کاروباری حلقوں سے ملاقاتوں میں تجارت، توانائی، برآمدات، کاروباری ماحول، اور ریگولیٹری اصلاحات پر زور دیتے رہے ہیں۔ موجودہ ملاقات اسی پالیسی تسلسل کی کڑی دکھائی دیتی ہے، جس میں حکومت ایک طرف اصلاحات کا پیغام دے رہی ہے اور دوسری طرف بیرونی سرمایہ کاروں کو یہ باور کرا رہی ہے کہ پاکستان اب زیادہ منظم، پالیسی پر مبنی، اور شراکت داری کے لیے تیار معیشت بننے کی کوشش کر رہا ہے۔
اگر اس ملاقات سے کوئی فوری اعلان سامنے نہیں بھی آیا، تب بھی اس کی سیاسی اور معاشی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ اس طرح کے رابطے عموماً بعد کی پالیسی ہم آہنگی، سرمایہ کاری مذاکرات، تکنیکی تعاون، اور مالیاتی اداروں کے ساتھ اعتماد سازی کی بنیاد بنتے ہیں۔ واشنگٹن میں جاری اسپورنگ میٹنگز کے ماحول میں، جہاں عالمی نمو، مالی استحکام، اور توانائی و تجارت کے خطرات زیرِ بحث ہیں، پاکستان کی کوشش یہی نظر آتی ہے کہ وہ خود کو ایک سنجیدہ، اصلاحات پر کاربند، اور سرمایہ کاری کے لیے کھلی معیشت کے طور پر پیش کرے۔
