نہید رانا کی برق رفتار اور جارحانہ بولنگ کی بدولت بنگلہ دیش نے پیر کو میرپور میں کھیلے گئے دوسرے ایک روزہ میچ میں نیوزی لینڈ کو 198 رنز پر ڈھیر کر دیا اور پھر ہدف 35.3 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرکے تین میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔
میچ کا اصل رخ رانا کے اسپیل نے بدلا۔ نوجوان فاسٹ بولر نے 9.4 اوورز میں 32 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں اور نیوزی لینڈ کی بیٹنگ لائن کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ ان کی بولنگ میں رفتار بھی تھی، باؤنس بھی، اور وہ دباؤ بھی جس نے مہمان ٹیم کو مسلسل غلطیاں کرنے پر مجبور کیا۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے نک کیلی نے سب سے زیادہ مزاحمت کی۔ انہوں نے 102 گیندوں پر 83 رنز بنائے اور 14 چوکے بھی لگائے، مگر دوسرے اینڈ سے انہیں خاطر خواہ ساتھ نہ مل سکا۔ ہنری نکولس 33 رنز بنا سکے، محمد عباس نے 19 رنز جوڑے، لیکن مجموعی طور پر نیوزی لینڈ کی اننگز روانی حاصل نہ کر سکی۔
بنگلہ دیش نے ابتدا ہی سے لائن اور لینتھ پر قابو رکھا۔ رانا کے علاوہ شرف الاسلام نے دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ تسکین احمد، رشاد حسین اور سومیا سرکار نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ نیوزی لینڈ ایک مرحلے پر اننگز سنبھالتا ہوا دکھائی دے رہا تھا، لیکن درمیانی اوورز میں وقفے وقفے سے گرنے والی وکٹوں نے اسے بڑے اسکور سے دور رکھا۔
198 رنز کا ہدف بہت بڑا نہیں تھا، مگر بنگلہ دیش کے لیے اصل امتحان ذہنی تھا، کیونکہ پہلے میچ میں وہ بہتر پوزیشن کے باوجود آخری لمحات میں بکھر گیا تھا۔ اس بار صورت حال مختلف رہی۔ بنگلہ دیشی بیٹرز نے جلد بازی نہیں دکھائی اور ہدف کا تعاقب نہایت پختگی کے ساتھ مکمل کیا۔
نجم الحسن شانتو نے 71 گیندوں پر 50 رنز کی اہم اننگز کھیلی، جبکہ توحید ہردوئے 30 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ کپتان مہدی حسن میراز بھی آخر تک وکٹ پر موجود رہے اور ٹیم کو بااعتماد انداز میں فتح تک لے گئے۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے جیڈن لینکس نے دو وکٹیں حاصل کیں، لیکن بنگلہ دیش کی بیٹنگ پر اس سے زیادہ دباؤ نہ بن سکا۔
اس کامیابی کی اہمیت صرف اسکور لائن تک محدود نہیں۔ پہلے ون ڈے میں بنگلہ دیش 248 رنز کے تعاقب میں ایک وقت اچھی پوزیشن میں تھا، مگر پھر آخری چھ وکٹیں صرف 37 رنز کے اندر گنوا بیٹھا۔ دوسرے میچ میں اسی ٹیم نے کہیں زیادہ نظم و ضبط، تحمل اور اعتماد دکھایا، جو یقیناً میزبانوں کے لیے حوصلہ افزا بات ہوگی۔
نیوزی لینڈ کے لیے یہ شکست مایوس کن رہی، خاص طور پر اس لیے کہ نک کیلی کی عمدہ اننگز کے باوجود ٹیم 200 کا ہندسہ بھی عبور نہ کر سکی۔ میرپور کی وکٹ پر اگرچہ بیٹنگ آسان نہیں تھی، لیکن ایسا محسوس ہوا کہ مہمان ٹیم کم از کم 30 سے 40 رنز پیچھے رہ گئی۔
اب سیریز فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ پہلا میچ نیوزی لینڈ نے 26 رنز سے جیتا تھا، جبکہ دوسرے مقابلے میں بنگلہ دیش نے بھرپور واپسی کرتے ہوئے حساب برابر کر دیا۔ تیسرا اور آخری میچ اب سیریز کے فاتح کا فیصلہ کرے گا، اور موجودہ رفتار دیکھتے ہوئے مقابلہ سخت ہونے کی توقع ہے۔
