کویت سٹی، 22 اپریل — کویت نے ایک نئے سرکاری اقدام میں 172 افراد کی شہریت منسوخ کر دی ہے۔ مقامی رپورٹس کے مطابق یہ فیصلے سرکاری گزٹ "الکویت الیوم” میں شائع ہوئے، جن میں ایک حکم کے تحت 6 افراد اور دوسرے کے تحت 166 افراد کی شہریت ختم کی گئی۔ یہ کارروائی کویت میں شہریت کی جانچ اور منسوخی کی جاری مہم کا تازہ مرحلہ سمجھی جا رہی ہے۔
اس پیش رفت کی اہمیت صرف تعداد میں نہیں، بلکہ اس وسیع تر سرکاری پالیسی میں ہے جس کے تحت حالیہ مہینوں میں شہریت کے قوانین کو مزید سخت کیا گیا ہے۔ کویتی حکومت کے سرکاری پورٹل کے مطابق 12 اپریل 2026 کو ایک نیا ڈکری لا شائع کیا گیا جس نے 1959 کے شہریت قانون کی متعدد شقوں میں ترمیم کی۔ ان ترامیم میں شہریت کے حصول، اس کی منسوخی، اور دوہری شہریت رکھنے والے بعض نیچرلائزڈ شہریوں کے لیے اضافی شرائط شامل کی گئیں۔
حکومتی مؤقف یہ ہے کہ ان قانونی تبدیلیوں کا مقصد قومی شناخت کا تحفظ، شہریت کے نظام کو زیادہ منظم بنانا، اور ایسے معاملات میں ریاستی اختیار کو واضح قانونی بنیاد دینا ہے۔ حالیہ قانونی تبدیلیوں کی کوریج میں یہ بھی سامنے آیا کہ نئے ضابطوں نے حکومت کے لیے شہریت واپس لینے اور منسوخ کرنے کے اختیارات کو زیادہ واضح اور مضبوط بنایا ہے، جس سے مستقبل میں اسی نوعیت کی مزید کارروائیوں کا امکان بڑھ گیا ہے۔
یہ 172 افراد والا فیصلہ ایک الگ تھلگ واقعہ نہیں۔ صرف 13 اپریل 2026 کو شائع ہونے والی ایک دوسری کھیپ میں 2,182 افراد کی کویتی شہریت ختم کیے جانے کی رپورٹ سامنے آئی تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت مرحلہ وار، لیکن مسلسل، بڑے پیمانے پر شہریت کے مقدمات نمٹا رہی ہے۔
مبصرین کے نزدیک اس پالیسی کے اثرات صرف ان افراد تک محدود نہیں رہتے جن کے نام سرکاری فیصلوں میں درج ہوتے ہیں، کیونکہ بعض صورتوں میں ان پر منحصر اہلِ خانہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے کویت میں شہریت کی منسوخی کا مسئلہ اب صرف ایک قانونی معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ سماجی، انتظامی اور انسانی اثرات رکھنے والا حساس موضوع بنتا جا رہا ہے۔
فی الحال حکومت کی جانب سے یہی تاثر دیا جا رہا ہے کہ تمام اقدامات قانون کے مطابق اور ریاستی مفاد میں کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، ناقدین اور حقوق کے بعض حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اتنی تیز رفتاری سے ہونے والی منسوخیاں شفافیت، اپیل کے حق، اور متاثرہ خاندانوں کے مستقبل کے حوالے سے مزید وضاحت چاہتی ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا مزید کھیپیں بھی اسی تسلسل سے سامنے آتی ہیں یا نہیں۔
