ڈرامہ سیریل کفیل میں سبوخ کے کردار نے ناظرین پر گہرا اثر چھوڑا ہے، اور اب اسی کردار پر اداکار و گلوکار عاشر وجاہت کو گھر سے بھی کھلی پذیرائی مل رہی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں شائقین کی توجہ خاص طور پر ان مناظر پر مرکوز رہی جن میں سبوخ اپنی ماں کے لیے ڈھال بن کر سامنے آتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس کردار پر عوامی تعریف کے ساتھ خاندانی فخر کی بات بھی نمایاں ہوئی۔
کفیل کو عمیرہ احمد نے تحریر کیا ہے جبکہ ہدایت کاری میثم نقوی نے کی۔ اے آر وائی کی کوریج کے مطابق ڈرامہ دسمبر 2025 میں نشر ہونا شروع ہوا اور ابتدا ہی سے اپنی سنجیدہ، حقیقت کے قریب کہانی کی وجہ سے توجہ حاصل کر گیا۔ مرکزی کاسٹ میں صنم سعید اور عماد عرفانی شامل ہیں، جبکہ بعد کے حصے میں عاشر وجاہت کا سبوخ کہانی کے جذباتی مرکز کے طور پر ابھرا۔
سبوخ کی مقبولیت محض اس لیے نہیں بڑھی کہ وہ ایک اچھا بیٹا دکھایا گیا ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ اس کردار میں ایک طرح کی خاموش پختگی ہے۔ Reviewit نے اسے شو کی “breath of fresh air” قرار دیا اور لکھا کہ سبوخ اپنی ماں اور بہنوں کے لیے سہارا بن کر سامنے آتا ہے، جب کہ Pakistan Today کے مطابق ناظرین نے اس کردار کی حقیقت پسندی، ذمہ داری اور جذباتی بلوغت کو خاص طور پر سراہا۔
ایک اہم موڑ وہ تھا جب سبوخ نے اپنی ماں کی آزادی اور سکون کے لیے ذمہ داری اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ اے آر وائی اردو اور Reviewit دونوں نے ایسے مناظر کی نشاندہی کی جن میں اس کا اپنے والد کے سامنے ڈٹ جانا اور گھر کے بوجھ کو اپنے کندھوں پر لینا ناظرین کو بے حد متاثر کر گیا۔ سوشل میڈیا پر کئی تبصروں میں اسے مثالی بیٹا، محافظ بھائی اور ایک ایسا نوجوان قرار دیا گیا جو گھر کے ٹوٹتے ڈھانچے میں حوصلے کی آخری لکیر بن جاتا ہے۔
ناظرین کے ردِعمل کا ایک اور سبب یہ بھی رہا کہ سبوخ کو روایتی مردانہ برتری کے نمائندے کے طور پر نہیں، بلکہ ایک حساس اور اخلاقی نوجوان کے طور پر لکھا گیا۔ Niche کی رپورٹ کے مطابق جب اس نے اپنے والد کے عورت دشمن رویے کے سامنے خاموش رہنے سے انکار کیا، تو سوشل میڈیا پر شائقین نے اس منظر کو کھل کر سراہا۔ کئی لوگوں نے لکھا کہ پاکستانی ڈراموں میں ایسے مرد کردار کم دیکھنے کو ملتے ہیں جو گھر کی خواتین کے احترام کے لیے اتنی صاف آواز میں کھڑے ہوں۔
عاشر وجاہت نے بھی ایک انٹرویو میں اپنے کردار کے بارے میں اشارہ دیا تھا کہ ایک زہریلے باپ کے زیرِ سایہ پلنے والا بچہ یا تو اسی رویے کو اپنا لیتا ہے، یا پھر اس کے برعکس راستہ اختیار کرتا ہے۔ اب جب سبوخ کو دیکھتے ہیں تو یہی بات اس کردار کی اصل طاقت محسوس ہوتی ہے: وہ اپنے ماحول کا عکس بھی ہے، مگر اس کی تکرار نہیں۔
عاشر وجاہت پہلے ہی موسیقی، اداکاری اور خاندانی پس منظر کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے، لیکن کفیل میں سبوخ کے کردار نے انہیں ایک الگ اداکارانہ شناخت دی ہے۔ اس وقت بحث صرف یہ نہیں کہ وہ وجاہت رؤف اور شازیہ وجاہت کے بیٹے ہیں؛ بات یہ ہے کہ انہوں نے ایک ایسے کردار کو اس سچائی سے نبھایا ہے جو ناظرین کے دل میں اتر گیا۔ شاید اسی لیے والدین کی تعریف بھی عام تعریفی جملہ محسوس نہیں ہوتی، بلکہ ایک ایسے لمحے کی طرح لگتی ہے جب خاندان کو بھی اندازہ ہو کہ ان کے بیٹے نے واقعی کچھ خاص کر دکھایا ہے۔
