امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک سوشل میڈیا ری شیئر نے بھارت میں شدید ردعمل پیدا کر دیا ہے، جب ان کے اکاؤنٹ سے ایسی پوسٹ آگے بڑھائی گئی جس میں بھارت اور چین کو “hellhole on the planet” جیسے توہین آمیز الفاظ سے جوڑا گیا۔ یہ معاملہ محض ایک سوشل میڈیا تنازع نہیں رہا، بلکہ جلد ہی سفارتی حساسیت کا موضوع بن گیا۔
بھارت کی وزارتِ خارجہ نے غیر معمولی طور پر کھل کر جواب دیا۔ وزارت کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ یہ ریمارکس “واضح طور پر بے خبرانہ، نامناسب اور بدذوقی پر مبنی” ہیں۔ وزارت نے یہ بھی اشارہ دیا کہ یہ تبصرے بھارت اور امریکا کے تعلقات کی اصل نوعیت کی نمائندگی نہیں کرتے۔
اصل تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب ٹرمپ نے مبینہ طور پر ایک ایسے مواد کو ری شیئر کیا جو امریکا میں birthright citizenship یعنی پیدائش کی بنیاد پر شہریت کے قانون کے خلاف دلائل دے رہا تھا۔ اسی تناظر میں بھارت اور چین کا ذکر توہین آمیز انداز میں آیا۔ امریکی داخلی سیاست میں امیگریشن پر سخت زبان نئی بات نہیں، مگر بھارت میں اسے ایک ایسے ملک کی بے عزتی کے طور پر دیکھا گیا جسے واشنگٹن عام طور پر اپنا اہم اسٹریٹجک شراکت دار کہتا ہے۔
اس سارے معاملے کو اور بھی نمایاں اس لیے سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ٹرمپ اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے تعلقات کو عموماً گرم جوشی، سیاسی قربت اور بڑے عوامی مظاہروں کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا میں اس واقعے کو صرف ایک لغزش نہیں بلکہ اس تاثر کے لیے دھچکا قرار دیا گیا کہ دونوں رہنما ایک دوسرے کے قریب ہیں اور دونوں ممالک کی سیاسی فضا میں یہ قربت اہم علامتی وزن رکھتی ہے۔
بھارتی رپورٹس کے مطابق، امریکی سفارت خانے نے بعد میں نقصان کم کرنے کی کوشش بھی کی۔ بعض رپورٹوں میں کہا گیا کہ امریکی جانب سے یہ مؤقف سامنے لایا گیا کہ ٹرمپ بھارت کو ایک “عظیم ملک” سمجھتے ہیں اور مودی کو اپنا دوست کہتے رہے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ تب تک معاملہ عوامی سطح پر کافی پھیل چکا تھا اور سوشل میڈیا پر اسے بھارت کے بارے میں امریکی سیاسی بیانئے کی ایک تلخ جھلک کے طور پر لیا جا رہا تھا۔
فی الحال یہ بحران مکمل سفارتی تصادم کی شکل میں نظر نہیں آتا، مگر نئی دہلی کی ناراضی واضح ہے۔ بھارت نے کوئی بڑا عملی قدم اعلان نہیں کیا، لیکن وزارتِ خارجہ کی زبان سے یہ صاف ہو گیا کہ حکومت اس معاملے کو معمولی نہیں سمجھ رہی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا اسٹریٹجک شراکت داری کے خوبصورت بیانات کے پیچھے باہمی احترام بھی اتنا ہی مضبوط ہے یا نہیں۔
