کراچی: متحدہ عرب امارات کے درہم کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ آج 24 اپریل 2026 کو مستحکم رہا۔ اوپن مارکیٹ میں درہم کی قیمت 75.85 روپے کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے۔ ایکسچینج کمپنیوں کے مطابق مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیاں محتاط انداز میں جاری ہیں، کیونکہ سرمایہ کاروں کی نظریں ملکی مانیٹری پالیسی کے ممکنہ فیصلوں پر جمی ہوئی ہیں۔
موجودہ شرحِ تبادلہ اس سہ ماہی کے اوائل میں دیکھی جانے والی اتار چڑھاؤ کی کیفیت کے بعد ایک نسبتاً پرسکون دور کی عکاسی کرتی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے یہ استحکام ترسیلاتِ زر بھیجنے کے حوالے سے ایک پیش گوئی کے قابل صورتحال پیدا کر رہا ہے، تاہم لین دین کا حجم گزشتہ مالی سال کے عروج کے مقابلے میں اب بھی کم ہے۔
کرنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا آئندہ شرح سود کا فیصلہ مارکیٹ کے مزاج کو طے کرنے والا بنیادی عنصر ہے۔ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ شرح سود برقرار رکھی جائے گی، جس سے روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں — اور بالواسطہ طور پر ڈالر سے منسلک درہم کے مقابل — ایک محدود دائرے میں بندھا ہوا ہے۔ اگر مرکزی بینک نرمی کا اشارہ دیتا ہے تو روپے کی قدر پر فوری دباؤ پڑ سکتا ہے۔
مقامی بینکوں میں لیکویڈیٹی کی صورتحال بہتر ہے، جس سے وہ بحران پیدا نہیں ہو رہا جو دو سال قبل مارکیٹ کو درپیش تھا۔ اس کے باوجود، انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ کے ریٹس میں فرق چھوٹے درآمد کنندگان کے لیے اب بھی ایک چیلنج ہے جو نقد لین دین پر انحصار کرتے ہیں۔
کراچی کی ایک بروکریج فرم کے سینئر تجزیہ کار نے کہا، "مارکیٹ فی الحال ‘دیکھو اور انتظار کرو’ کی پالیسی پر گامزن ہے۔ جب تک مرکزی بینک کی جانب سے افراطِ زر کے اہداف پر اگلا قدم سامنے نہیں آتا، کوئی بھی بڑا مالی رسک لینے سے گریز کر رہا ہے۔”
اگرچہ درہم کی مضبوطی برقرار ہے، لیکن روپے کی طویل مدتی ساکھ کا انحصار غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے مستقل آمد پر ہے۔ فی الحال، ایکسچینج کمپنیوں کے بورڈز پر موجود اعداد و شمار ایک پرسکون کاروباری دن کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
