کراچی — وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پیر کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران گل پلازہ آتشزدگی سے متاثرہ تاجروں میں 511 ملین روپے کے معاوضے کے چیک تقسیم کیے۔
یہ ادائیگی تاجروں کی بحالی کے لیے شروع کیے گئے وسیع تر مالیاتی منصوبے کا پہلا مرحلہ ہے۔ متاثرہ دکانداروں سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ "ہم آپ کے نقصان کی شدت کو سمجھتے ہیں۔ یہ صرف رقم کی بات نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ شہر کا تجارتی مرکز رواں رہے۔”
فوری امداد کے علاوہ، وزیراعلیٰ نے 7 ارب روپے کے مجموعی ریلیف پیکیج کا بھی اعلان کیا۔ اس فنڈ کا مقصد عمارتوں کی بحالی، شہر کی بڑی مارکیٹوں میں آگ بجھانے کے جدید نظام کی تنصیب اور چھوٹے دکانداروں کو اپنا کاروبار دوبارہ شروع کرنے کے لیے کم شرح سود پر قرضے فراہم کرنا ہے۔
رواں سال لگنے والی اس آگ نے سینکڑوں دکانوں کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا تھا، جس سے بہت سے خاندانوں کا ذریعہ معاش ختم ہو گیا۔ واقعے کے بعد کئی ہفتوں تک تاجروں نے احتجاج کیا اور حکومت سے مالی نقصانات کے فوری تخمینے اور امداد کا مطالبہ کیا تھا۔
اگرچہ 511 ملین روپے کی تقسیم سے متاثرین کو فوری ریلیف ملا ہے، تاہم 7 ارب روپے کے بڑے پیکیج کی تقسیم ایک چیلنج ہے۔ صوبائی انتظامیہ نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے جس کا کام اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ فنڈز براہ راست متاثرہ دکانداروں تک پہنچیں اور کسی قسم کی بیوروکریٹک رکاوٹ یا درمیانی افراد کی مداخلت نہ ہو۔
محکمہ خزانہ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ رقم صوبائی ہنگامی فنڈز سے نکالی گئی ہے۔ حکام کے مطابق، آنے والی سہ ماہی میں فائر سیفٹی انفراسٹرکچر، خاص طور پر جدید فائر ہائیڈرنٹس اور الارم سسٹمز کی تنصیب کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
اپنا سب کچھ کھو دینے والے تاجروں کے لیے یہ چیک ایک سہارا ہیں۔ تاہم، کیا 7 ارب روپے کا یہ پیکیج کراچی کی خستہ حال تجارتی عمارتوں کو کسی اور ممکنہ سانحے سے محفوظ بنا سکے گا؟ اس کا جواب وقت ہی دے گا۔
