وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور وہ ایک “ایماندار اور مخلص سہولت کار” کے طور پر اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بات پاکستان کے سرکاری بیان میں بتائی گئی جو 19 اپریل کو ہونے والی اس 45 منٹ کی گفتگو کے بعد جاری کیا گیا۔
ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انفارمیشن کے مطابق اس گفتگو میں خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد آنے والے اعلیٰ ایرانی وفد، جس کی قیادت اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی تھی، کا بھی شکریہ ادا کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ شہباز شریف نے سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے رہنماؤں سے اپنی حالیہ ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان رابطوں نے خطے میں سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد دی ہے۔ انہوں نے ایران کے ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حالیہ ملاقات کا بھی خیرمقدم کیا۔
وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان، دوست ممالک کی حمایت سے، خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی “ایماندار اور مخلص کوششیں” جاری رکھے گا۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
یہ گفتگو اس وقت ہوئی جب پاکستان خطے میں ایران اور دیگر فریقین کے درمیان سفارتی رابطوں میں ایک ممکنہ سہولت کار کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق اسلام آباد اس دوران مشرق وسطیٰ کے بحران سے متعلق مذاکرات کے ایک اور دور کی میزبانی کی تیاری کر رہا تھا۔
بعد ازاں 25 اپریل کو وزیراعظم نے دوبارہ ایرانی صدر سے رابطے کا ذکر کیا، جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق امریکی منصوبہ بند مذاکراتی دورے بھی منسوخ کر دیے گئے، جس سے خطے میں سفارتی صورتحال کی غیر یقینی کیفیت ظاہر ہوتی ہے۔
