MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
سیاست

ایران جنگ اور ہمسایہ ممالک سے کشیدگی کے درمیان، متحدہ عرب امارات نے اپنی الگ راہ چن لی

Last updated: اپریل 29, 2026 1:02 صبح
Abdul Saboor
Share
SHARE

دبئی، 29 اپریل 2026 — خلیج میں اس وقت صف بندیاں تیز ہیں، بیانات سخت ہیں، اور ہر ملک پر دباؤ ہے کہ وہ کھل کر ایک طرف کھڑا ہو۔ مگر متحدہ عرب امارات نے اس ہنگامے میں نسبتاً مختلف راستہ اختیار کیا ہے: نہ مکمل خاموشی، نہ کھلی محاذ آرائی، بلکہ ایک ایسا محتاط مؤقف جس میں دفاع بھی ہے، فاصلہ بھی، اور سفارت کاری کے لیے دروازہ بھی پوری طرح بند نہیں کیا گیا۔

28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد ابوظہبی نے ایک بار پھر یہ واضح کیا کہ وہ اس تنازع کا فریق نہیں بننا چاہتا۔ امارات نے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کی، اپنی خودمختاری کے خلاف ان کارروائیوں کو ناقابل قبول قرار دیا، تہران میں اپنا سفارت خانہ بند کیا، اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس کی سرزمین، فضائی حدود یا سمندری حدود ایران کے خلاف کسی دشمنانہ کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائیں گی۔ یہی دوہرا مگر سوچا سمجھا پیغام دراصل اماراتی پالیسی کا مرکز ہے: اپنی حفاظت بھی، مگر دوسروں کی جنگ میں پوری طرح شامل ہوئے بغیر۔

یہ رویہ صرف ایران کے بارے میں نہیں۔ اس کے پیچھے ایک بڑی علاقائی سوچ بھی ہے۔ امارات اب پہلے کی طرح ہر معاملے میں ہمسایہ ممالک، خاص طور پر سعودی عرب، کے ساتھ ایک ہی لائن اختیار کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ دونوں ممالک کے مفادات اب بھی کئی جگہ مشترک ہیں، مگر حالیہ برسوں میں یمن، بحیرہ احمر، تجارتی مقابلے اور توانائی پالیسی جیسے معاملات پر اختلافات نمایاں ہوئے ہیں۔ ایران جنگ نے ان دراڑوں کو اور زیادہ واضح کر دیا ہے۔

جنوری 2026 میں اماراتی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ملک اپنی سرزمین، فضائی حدود یا پانیوں کو ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اس بیان کو اُس وقت ایک احتیاطی سفارتی اشارہ سمجھا گیا تھا، مگر جنگ بھڑکنے کے بعد یہی مؤقف اماراتی پالیسی کی بنیاد بن گیا۔ جب فروری کے آخر اور مارچ کے آغاز میں ایرانی حملوں نے خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنایا تو ابوظہبی نے سخت ردعمل دیا۔ یکم مارچ کو تہران میں اماراتی سفارت خانہ بند کرنے اور سفارتی عملہ واپس بلانے کا اعلان کیا گیا۔ اس کے باوجود امارات نے یہی کہا کہ وہ جنگ کا فریق نہیں اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

یہاں اصل بات یہ ہے کہ امارات نے خود کو مکمل غیر جانب دار بھی نہیں کہا، اور نہ ہی کھلے عام کسی وسیع فوجی اتحاد کی اگلی صف میں آ کھڑا ہوا۔ اس نے دفاع کے حق پر زور دیا، مگر ساتھ ہی یہ اصرار بھی برقرار رکھا کہ اسے دوسروں کے فوجی ایجنڈے کا حصہ نہ سمجھا جائے۔

اس جنگ نے امارات کو براہ راست متاثر بھی کیا۔ خلیج میں توانائی تنصیبات، شہری ڈھانچے، بندرگاہیں، فضائی راستے اور کاروباری سرگرمیاں سب دباؤ میں آ گئیں۔ امارات کے لیے یہ معاملہ صرف سلامتی کا نہیں بلکہ معاشی بقا کا بھی ہے۔ دبئی اور ابوظہبی کئی برس سے خود کو مشرق وسطیٰ کے نسبتاً محفوظ تجارتی اور مالیاتی مراکز کے طور پر پیش کرتے آئے ہیں۔ اگر یہ تاثر مضبوط ہو جائے کہ امارات کسی بڑی علاقائی جنگ کا فعال میدان بن چکا ہے، تو اس کا اثر سرمایہ کاری، تجارت، ہوا بازی اور شپنگ سب پر پڑ سکتا ہے۔

اسی لیے ابوظہبی کا موجودہ مؤقف بظاہر متضاد لگ سکتا ہے، مگر دراصل وہ اس کے اپنے مفادات سے جڑا ہوا ہے۔ ایک طرف وہ ایران کے حملوں کی سخت مذمت کرتا ہے، دوسری طرف وہ کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کی حمایت بھی کرتا ہے۔ ایک طرف وہ دفاعی حق کی بات کرتا ہے، دوسری طرف یہ بھی کہتا ہے کہ اس کی زمین کسی اور کی جنگ کے لیے استعمال نہیں ہو گی۔

ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بھی اس حکمت عملی کو سمجھنے میں اہم ہیں۔ سعودی عرب اور امارات کے تعلقات اب بھی گہرے ہیں، مگر ان میں پہلے جیسی ہم آہنگی نہیں رہی۔ یمن میں دونوں کی ترجیحات مختلف رہیں۔ بحیرہ احمر اور خطے میں اثرورسوخ کے مسئلے پر بھی دونوں کے راستے الگ ہوتے دکھائی دیے۔ اب توانائی کی سیاست میں بھی فرق کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ 28 اپریل 2026 کو یہ خبر سامنے آئی کہ امارات یکم مئی سے اوپیک چھوڑ دے گا۔ یہ محض تیل کی پیداوار کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک بڑی سیاسی علامت بھی ہے: ابوظہبی بعض اہم فیصلوں میں ریاض کے سائے سے باہر نکل کر اپنی جگہ خود متعین کرنا چاہتا ہے۔

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امارات ایران کے قریب جا رہا ہے۔ ایسا کہنا درست نہیں ہوگا۔ سفارت خانہ بند کرنا، حملوں کی مذمت کرنا، اور ایرانی کارروائیوں کو علاقائی امن و توانائی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینا واضح اشارے ہیں کہ امارات تہران پر اعتماد نہیں کرتا۔ مگر اتنا ہی واضح یہ بھی ہے کہ وہ ہر قیمت پر کسی وسیع محاذ آرائی کا حصہ بننے کو بھی تیار نہیں۔

یہی نکتہ اس پورے معاملے کا خلاصہ ہے۔ متحدہ عرب امارات اس وقت خلیجی سیاست میں ایک الگ انداز اپنا رہا ہے: ایسا انداز جس میں اصولی مخالفت ہے، مگر مکمل تابع داری نہیں؛ دفاعی تیاری ہے، مگر غیر ضروری مہم جوئی نہیں؛ علاقائی شراکت داری ہے، مگر فیصلوں میں خودمختاری بھی۔

آج کے مشرق وسطیٰ میں، جہاں اتحاد تیزی سے بنتے اور ٹوٹتے ہیں، ابوظہبی شاید یہ سمجھ چکا ہے کہ بقا صرف طاقت میں نہیں بلکہ گنجائشِ حرکت میں بھی ہے۔ اور فی الحال، امارات اسی گنجائش کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article اثاثہ جاتی انتظامی کمپنیاں اب سرمایہ کاروں کو براہِ راست ای ٹی ایف فروخت کر سکیں گی اثاثہ جاتی انتظامی کمپنیاں اب سرمایہ کاروں کو براہِ راست ای ٹی ایف فروخت کر سکیں گی
Next Article ویک ہرسٹ میں شہد کی مکھیوں کی تعداد بڑھانے کے لیے ’بنیادی نوعیت‘ کی تحقیق شروع ویک ہرسٹ میں شہد کی مکھیوں کی تعداد بڑھانے کے لیے ’بنیادی نوعیت‘ کی تحقیق شروع
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
کراچی پورٹ پر کثیرالمقاصد کارگو ہینڈلنگ کے نئے مرحلے کا آغاز
کراچی پورٹ پر کثیرالمقاصد کارگو ہینڈلنگ کے نئے مرحلے کا آغاز
کاروبار اور تجارت
اکتوبر 2, 2026
آئی ایم ایف اقتصادی جائزہ مذاکرات، گیس اور بجلی کے گردشی قرضے پر تشویش
آئی ایم ایف اقتصادی جائزہ مذاکرات، گیس اور بجلی کے گردشی قرضے پر تشویش
کاروبار اور تجارت
اکتوبر 2, 2026
نئی آٹو پالیسی پر آئی ایم ایف سے اتفاق نہ ہو سکا، مزید مشاورت کا فیصلہ
نئی آٹو پالیسی پر آئی ایم ایف سے اتفاق نہ ہو سکا، مزید مشاورت کا فیصلہ
کاروبار اور تجارت
اکتوبر 2, 2026
امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو تیسرے ممالک میں تارکینِ وطن کی بے دخلی دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی
امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو تیسرے ممالک میں تارکینِ وطن کی بے دخلی دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی
کاروبار اور تجارت
اکتوبر 2, 2026
صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن لانے میں مشکلات
صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن لانے میں مشکلات
Maritime تازہ ترین
اکتوبر 1, 2026
امریکی قونصل جنرل کا کراچی پورٹ کا دورہ، جدیدکاری اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو
امریکی قونصل جنرل کا کراچی پورٹ کا دورہ، جدیدکاری اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026

You Might Also Like

سیاست

’تاریخ میں نقش‘: یومِ معرکۂ حق پر وزیراعظم شہباز شریف کا دوٹوک پیغام، پاکستان کو دبایا نہیں جا سکتا

By Abdul Saboor
سیاست

ایرانی وزیر خارجہ اسلام آباد میں، شہباز شریف اور عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں

By Amna Iqbal
ایران کے وزیر خارجہ کی پوٹن سے ملاقات، ماسکو میں جنگ اور سفارت کاری پر اہم بات چیت
تازہ ترینسیاست

ایران کے وزیر خارجہ کی پوٹن سے ملاقات، ماسکو میں جنگ اور سفارت کاری پر اہم بات چیت

By Ayesha Masood
سیاست

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا میڈیا کو خراجِ تحسین: "آپ نے دنیا کو سچ دکھایا”

By Hafeez Alam Ghazi
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?