پشاور زلمی کے آف اسپنر ساجد خان نے پی ایس ایل 11 کے لیے اپنے عزائم کا کھل کر اظہار کرتے ہوئے پیشگوئی کی ہے کہ ٹرافی اس بار پشاور زلمی کے نام ہوگی۔
جارحانہ انداز اور بے باک گفتگو کے لیے مشہور ساجد خان نے فرنچائز کی کامیابی کے حوالے سے کوئی لگی لپٹی نہیں رکھی۔ ان کا ماننا ہے کہ ڈرافٹ سے قبل زلمی کی ٹیم سب سے زیادہ متوازن ہے اور ٹیم کی مستقل کارکردگی ہی ان کے اعتماد کی بنیادی وجہ ہے۔
ایک مقامی تقریب کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ساجد خان نے کہا، "ہم یہاں صرف حصہ لینے نہیں آئے، ہماری ٹیم کا کور جس طرح تشکیل دیا گیا ہے، مجھے پورا یقین ہے کہ اس بار ٹرافی ہم اٹھائیں گے۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تمام فرنچائزز اپنے کھلاڑیوں کی ریٹینشن لسٹ اور ڈرافٹ کے لیے حکمت عملی کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔ عام طور پر کرکٹرز لیگ کے نتائج پر محتاط تبصرے کرتے ہیں، مگر ساجد خان کا ٹورنامنٹ شروع ہونے سے کئی ماہ قبل فاتح ٹیم کا نام لینا کھلاڑیوں کے روایتی انداز سے بالکل مختلف ہے۔
زمینی حقائق البتہ کچھ اور ہیں۔ پشاور زلمی گزشتہ چند سیزنز میں فائنل تک پہنچنے یا اہم میچز میں دباؤ برداشت کرنے میں مشکلات کا شکار رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹیم میں سٹار کھلاڑیوں کی موجودگی کے باوجود ملتان سلطانز اور اسلام آباد یونائیٹڈ جیسی ٹیموں کے خلاف اہم لمحات میں زلمی کی تکنیکی نظم و ضبط کی کمی اکثر آڑے آتی ہے۔
ساجد خان کا یہ دعویٰ ٹیم کی نفسیاتی اپروچ بدلنے کی ایک کوشش بھی ہو سکتا ہے۔ بلند آہنگ پیشگوئی کے ذریعے وہ اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو اس "تقریباً کامیاب” والی شبیہ سے نکالنا چاہتے ہیں جو 2017 کے بعد سے ٹیم کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
آیا زلمی کا اسپن ڈیپارٹمنٹ ساجد خان کے اس دعوے کو عملی جامہ پہنا سکے گا یا نہیں، اس کا فیصلہ تو ٹورنامنٹ کے دوران ہی ہوگا۔ کرکٹ کے میدان میں پری سیزن کے دعوے اور مڈ سیزن کی حقیقت میں اکثر ایک بڑا فرق ہوتا ہے۔
ساجد خان ان خدشات کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں۔ ان کے لیے ٹرافی صرف ایک ہدف نہیں، بلکہ ایک توقع ہے۔
