آف اسپنر ساجد خان نے پشاور ریجن کے کھلاڑیوں کو ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں مسلسل نظر انداز کیے جانے پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ قومی ٹیسٹ ٹیم کے اہم رکن کا ماننا ہے کہ مقامی ٹیلنٹ کو مختصر فارمیٹ میں اپنی صلاحیتیں دکھانے کے مواقع نہیں مل رہے۔
ساجد خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں وہ مواقع نہیں مل رہے جن کے ہم حقدار ہیں۔ ٹیلنٹ موجود ہے، کارکردگی کے اعداد و شمار بھی حق میں ہیں، لیکن ٹی ٹوئنٹی کے دروازے ہم پر بند رکھے گئے ہیں۔”
یہ مایوسی خیبر پختونخوا کے کرکٹ حلقوں میں پائی جانے والی ایک وسیع تر سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ کئی ماہرین کا ماننا ہے کہ قومی ٹیم کے انتخاب میں مخصوص شہری مراکز کو ترجیح دی جاتی ہے، جس کے باعث پشاور ریجن کے کھلاڑیوں کے لیے آگے بڑھنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی ہو جاتی ہیں۔
ساجد کی ریڈ بال کرکٹ میں کارکردگی شاندار رہی ہے۔ انہوں نے اپنی جارحانہ اسپن بولنگ سے بین الاقوامی سطح پر بڑے بڑے بلے بازوں کو مشکل میں ڈالا ہے۔ اس کے باوجود، ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں ان کی عدم موجودگی کرکٹ شائقین اور تجزیہ کاروں کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی ہے، جو ان کی مڈل اوورز میں کنٹرول برقرار رکھنے کی صلاحیت کو محدود اوورز کی کرکٹ کے لیے اثاثہ قرار دیتے ہیں۔
سلیکٹرز کی تاریخ رہی ہے کہ وہ ٹی ٹوئنٹی میں آل راؤنڈرز یا دفاعی اسپنرز کو ترجیح دیتے ہیں۔ ساجد، جو ایک روایتی وکٹ ٹیکر ہیں، اکثر ان تکنیکی خاکہ جات میں فٹ نہیں بیٹھتے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں تسلط قائم کرنے کے باوجود، تیز رفتار ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ان کا داخلہ ایک مشکل چیلنج بنا ہوا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو ماضی میں بھی علاقائی نمائندگی کے حوالے سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب تک انتخاب کا عمل علاقائی تعصب سے نکل کر خالصتاً کارکردگی کی بنیاد پر نہیں ہوتا، ساجد جیسے کھلاڑیوں کا حق مارا جاتا رہے گا۔
ساجد خان کی جانب سے اٹھایا گیا یہ سوال اب سلیکشن کمیٹی کے لیے ایک امتحان ہے۔ کیا پی سی بی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لا کر پشاور ریجن کے ٹیلنٹ کو موقع دے گا یا یہ کھلاڑی اسی طرح سسٹم کے شکنجے میں پسے رہیں گے؟ جواب آنے والے سلیکشن سائیکل میں واضح ہو جائے گا۔
