کراچی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے منگل کے روز ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی اور تصادم کے الزام میں گرفتار ایس ایس پی کے بیٹے کی ضمانت منظور کر لی۔
ملزم کو پیر کی رات دیر گئے اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب ڈی ایچ اے کے ایک مصروف علاقے میں پولیس پیٹرولنگ ٹیم نے مشکوک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق، گاڑی کے ڈرائیور نے رکنے کے بجائے اہلکاروں سے سخت جملوں کا تبادلہ کیا اور اپنے والد کے عہدے کا رعب ڈالنے کی کوشش کی۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس کے بعد عوامی حلقوں میں شدید برہمی پائی گئی۔
منگل کو ملزم کے وکلاء عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ مقدمہ بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے مچلکوں کے عوض رہائی کا حکم دیا۔
اس واقعے نے ایک بار پھر کراچی میں "وی آئی پی کلچر” اور بااثر شخصیات کے خاندانوں کی مداخلت پر بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی اندرونی تحقیقات کی جا رہی ہیں، تاہم ناقدین کا ماننا ہے کہ فوری ضمانت کا عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ نظامِ انصاف میں اب بھی طاقتور طبقے کے لیے نرم گوشہ موجود ہے۔
پولیس کی جانب سے ابھی تک اس بات کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا کہ ملزم پر سرکاری فرائض میں رکاوٹ ڈالنے کے تحت باضابطہ فردِ جرم عائد کی جائے گی یا نہیں۔ فی الحال یہ معاملہ قانونی پیچیدگیوں میں گھرا ہوا ہے، جس نے عام شہریوں کو سوال کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا یہ تحقیقات کسی منطقی انجام تک پہنچیں گی یا وقت کے ساتھ سرد خانے کی نذر ہو جائیں گی۔
