کوئٹہ — کوئٹہ سے پشاور تک کا ایک ہزار کلومیٹر کا سفر جعفر ایکسپریس کے مسافروں کے لیے محض ایک نقل و حمل نہیں، بلکہ زندگی اور موت کا ایک جوا بن چکا ہے۔ کبھی بلوچستان کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے والی یہ ٹرین آج پاکستان کے ریلوے نظام کی زبوں حالی اور حکومتی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
سفر کا آغاز پرانے انجنوں کی مشینی چیخوں سے ہوتا ہے۔ یہ انجن اپنی طبعی عمر برسوں پہلے پوری کر چکے ہیں، جو اکثر بولان پاس کے ویران راستوں میں دم توڑ جاتے ہیں۔ جب انجن فیل ہوتا ہے، تو بوگیاں تپتے ہوئے تندور میں بدل جاتی ہیں۔ نہ ایئر کنڈیشننگ کام کرتی ہے، نہ ہی بجلی کا کوئی متبادل نظام موجود ہوتا ہے، اور اکثر عملے کے پاس مسافروں کو دینے کے لیے کوئی تسلی بخش جواب بھی نہیں ہوتا۔
کوئٹہ سے راولپنڈی کام کے سلسلے میں سفر کرنے والے رحیم اللہ کہتے ہیں، "آپ یہاں نشست کا ٹکٹ نہیں خریدتے، بلکہ اس امید کا سودا کرتے ہیں کہ پہیے چلتے رہیں۔ پچھلے ماہ ہم چھ گھنٹے تک ویرانے میں پھنسے رہے۔ نہ پانی تھا، نہ سایہ، صرف صحرائی تپتی دھوپ تھی۔”
نظام کی یہ لاپرواہی ہر بوگی میں واضح ہے۔ ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں میں کپڑے ٹھونسے گئے ہیں، نشستوں کے گدے پھٹ کر سپرنگ باہر نکل آئے ہیں اور بیت الخلاء کی حالت ناقابلِ بیان ہے۔ یہ معمولی مسائل نہیں، بلکہ صحت کے لیے سنگین خطرات ہیں۔ وہ سفر جو سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 25 گھنٹے کا ہے، تاخیر کے باعث اکثر 30 گھنٹے سے تجاوز کر جاتا ہے، جس سے ایک عام مسافر کی ہمت جواب دے جاتی ہے۔
ریلوے کے حکام فنڈز کی کمی اور درآمدی پرزہ جات کی مہنگائی کو اس زوال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ لیکن ان ہزاروں مسافروں کے لیے، جو فضائی سفر کی استطاعت نہیں رکھتے، یہ بیوروکریٹک وضاحتیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ جعفر ایکسپریس غریب طبقے کی لائف لائن ہے، لیکن قومی بجٹ میں اسے ترجیحات کی فہرست میں سب سے نچلی سطح پر رکھا گیا ہے۔
حفاظتی اقدامات کی کمی سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ٹریک کی خرابی اور پرانے سگنلنگ سسٹم کے باعث بوگیوں کا پٹری سے اترنا معمول بن چکا ہے۔ سیکیورٹی خدشات اور انفراسٹرکچر کی تباہی کے باعث یہ روٹ بار بار بند ہوتا ہے، جس سے مسافر ایسے علاقوں میں بے یار و مددگار رہ جاتے ہیں جہاں انہیں کوئی سہولت میسر نہیں ہوتی۔
وزارتِ ریلوے برسوں سے سی پیک کے تحت جدید کاری کے وعدے کر رہی ہے۔ ان وعدوں کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ٹرینیں سست، ٹریک کمزور اور مسافروں کی مایوسی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔
جب کوئٹہ کے پلیٹ فارم سے جعفر ایکسپریس روانہ ہوتی ہے، تو مسافروں کو لگژری کی تلاش نہیں ہوتی۔ وہ بس صرف اس بات کی دعا کرتے ہیں کہ اگلے 30 گھنٹے تک یہ ٹرین کسی حادثے کی خبر بن کر اخبار کی سرخی نہ بن جائے۔
