کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے منگل کے روز دورے کے دوران واضح ہدایت جاری کی کہ شاہراہِ بھٹو کو عید الاضحیٰ سے قبل ہر صورت ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے تعمیراتی کام میں مزید تاخیر کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ڈیڈ لائن پر عمل درآمد کا حکم دیا۔
کراچی کے شہریوں کے لیے یہ صرف ایک سڑک کی بحالی کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ شاہراہ ہزاروں مسافروں کے لیے ایک اہم شریان ہے، جو مہینوں سے مٹی اور گرد و غبار سے اٹے متبادل راستوں اور ٹریفک جام کا عذاب جھیل رہے ہیں۔ عید کے موقع پر، جب شہر میں خریداروں اور مسافروں کا رش عروج پر ہوتا ہے، اس روڈ کا کھلنا ٹریفک کے ممکنہ بحران کو روکنے کے لیے ناگزیر ہے۔
وزیراعلیٰ نے انجینئرز اور بلدیاتی افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "مجھے عید کے پہلے دن سے قبل یہ سڑک مکمل فعال چاہیے۔” انہوں نے محض اسفالٹ بچھانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ تعمیراتی ملبے کو فوری ہٹانے اور سٹریٹ لائٹس کی بحالی کا بھی حکم دیا، کیونکہ ان کے بقول، روشنی اور سہولیات کے بغیر سڑک کا کھلنا ادھورا ہے۔
صوبائی حکومت کے "میگا پروجیکٹس” کا حصہ یہ منصوبہ یوٹیلٹی لائنوں کی منتقلی اور ٹھیکیداروں کی سست روی کے باعث طویل عرصے سے تعطل کا شکار رہا ہے۔ شاہراہِ بھٹو شہر کے کئی گنجان آباد علاقوں کو ملاتی ہے، جس کی بندش نے گزشتہ ایک سال سے مقامی کاروبار کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔
وزیراعلیٰ کا یہ دورہ شہر بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی سست رفتاری پر عوامی شکایات کے بعد سامنے آیا ہے۔ عید جیسے اہم تہوار کو ڈیڈ لائن بنا کر، صوبائی حکومت نے اپنی ساکھ کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
مقامی رہائشیوں میں تاحال شکوک پائے جاتے ہیں کیونکہ وہ ماضی میں بھی ایسی کئی ڈیڈ لائنز کو گزرتے دیکھ چکے ہیں۔ تاہم، اب جبکہ وزیراعلیٰ نے خود نگرانی کا اعلان کیا ہے، ٹھیکیداروں پر کام مکمل کرنے کا شدید دباؤ ہے۔ اگر اس بار بھی ڈیڈ لائن پر عمل نہ ہوا، تو پہلے سے بنیادی ڈھانچے کی تباہی سے نالاں شہریوں کی جانب سے سیاسی ردِعمل کا سامنا کرنا حکومت کے لیے مشکل ہو گا۔
