ایران نے امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں نسبتاً نرم اور لچکدار مؤقف کا اشارہ دیا ہے، کیونکہ حالیہ اطلاعات کے مطابق تہران نے پاکستان کے ذریعے ایک نئی تجویز بھجوائی ہے تاکہ تعطل کا شکار سفارت کاری کو دوبارہ آگے بڑھایا جا سکے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق یہ مسودہ یکم مئی 2026 کو اسلام آباد کے حوالے کیا گیا، جبکہ دوسری رپورٹس سے یہ تاثر ملا ہے کہ نئی پیشکش پہلے کے مقابلے میں کچھ زیادہ نرم سمجھی جا رہی ہے، اگرچہ بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
تاہم اس پیش رفت کو فوری بریک تھرو نہیں کہا جا سکتا۔ اصل رکاوٹ اب بھی وہی ہے: ایران کی کوشش یہ رہی ہے کہ پہلے فوری کشیدگی میں کمی، آبنائے ہرمز اور علاقائی تناؤ جیسے معاملات پر بات ہو، جبکہ مکمل جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے میں رکھا جائے۔ اس کے برعکس واشنگٹن چاہتا ہے کہ کسی بھی پائیدار سمجھوتے میں ایران کے جوہری پروگرام کو براہِ راست شامل کیا جائے۔
اس پورے عمل میں پاکستان کا کردار زیادہ اہم ہو گیا ہے، کیونکہ وہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک پسِ پردہ رابطہ چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق ثالثی کرنے والے حلقے اب بھی سمجھتے ہیں کہ معاہدے کا امکان موجود ہے، اور باقی رہ جانے والے اختلافات کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ یہی رابطہ سفارتی عمل کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے بچائے ہوئے ہے۔
فی الحال جو لچک دکھائی دے رہی ہے، وہ زیادہ تر حکمتِ عملی کی سطح پر محسوس ہوتی ہے، کسی بڑے بنیادی سمجھوتے کی صورت میں نہیں۔ ایران بظاہر بات چیت جاری رکھنے اور اپنی زبان میں نرمی لانے پر آمادہ ہے، لیکن ابھی تک ایسا واضح اشارہ نہیں ملا کہ دونوں میں سے کسی ایک فریق نے ایران کے جوہری پروگرام کے بنیادی سوال پر اتنی پیش رفت کی ہو کہ معاہدہ قریب سمجھا جائے۔ نئی تجویز کو مذاکراتی عمل کو زندہ رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہوگا، نہ کہ حتمی پیش رفت کے ثبوت کے طور پر۔
