پٹرولیم حکام کے مطابق پاکستان کے پاس اس وقت پٹرولیم، آئل اور لبریکنٹس کے اتنے ذخائر موجود ہیں کہ ملک کی ضروریات جون کے تیسرے ہفتے تک پوری کی جا سکتی ہیں۔ حالیہ پارلیمانی اور خبری رپورٹوں کے مطابق حکام نے قانون سازوں کو بتایا کہ ملک کے پاس تقریباً 27 دن کا پٹرول اور 21 دن کا ڈیزل ذخیرہ موجود ہے، جبکہ مجموعی ایندھن دستیابی کو عموماً 24 سے 28 دن کے درمیان بتایا جا رہا ہے۔
یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں توانائی سپلائی اور بحری راستوں سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ فوری مدت کے لیے ایندھن کی کمی کا خطرہ نہیں، اگرچہ یہ بھی تسلیم کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کے پاس ابھی تک ایسا مکمل اور مضبوط اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو نظام موجود نہیں جو بڑے علاقائی ممالک کے برابر سمجھا جا سکے۔
اسی کمزوری کو دور کرنے کے لیے حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی ہے جو 90 روزہ اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر بنانے کے لیے سفارشات تیار کرے گی۔ اس کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی سفارشات 8 مئی 2026 تک پیش کرے۔
یوں فوری پیغام تو اطمینان کا ہے کہ آنے والے ہفتوں کے لیے ایندھن دستیاب ہے، مگر بڑی تصویر یہ بھی بتاتی ہے کہ پاکستان اب اپنی توانائی سلامتی کے ایک دیرینہ ڈھانچہ جاتی مسئلے کو دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
