اداکارہ اور رکنِ پارلیمنٹ کنگنا رناوت نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس افواہ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے کہا ہے کہ اگر کانگریس رہنما راہل گاندھی بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہو جائیں تو وہ ان سے شادی کر لیں گی۔ کنگنا نے اس دعوے کو “جعلی خبر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی باتیں خواتین کی عزت کو مجروح کرتی ہیں۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب 3 مئی کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہوئی، جس میں کنگنا رناوت کے نام سے ایک من گھڑت بیان منسوب کیا گیا۔ پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ اگر راہل گاندھی بی جے پی میں آ جائیں تو کنگنا ان سے شادی کے لیے تیار ہیں۔ یہ بات دیکھتے ہی دیکھتے مختلف پلیٹ فارمز پر پھیل گئی اور کئی لوگوں نے اسے سچ سمجھ لیا۔
کنگنا رناوت نے جلد ہی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے اس دعوے کی تردید کی۔ انہوں نے وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ نہایت “شرمناک جعلی خبر” ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں بھی خواتین کے لیے کوئی وقار نہیں چھوڑا جاتا، اور جو لوگ ایسی جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں، انہیں شرم آنی چاہیے۔
کنگنا کے ردعمل سے صاف ظاہر تھا کہ معاملہ صرف ایک افواہ تک محدود نہیں۔ انہوں نے اسے اس وسیع تر مسئلے سے جوڑا جس میں خواتین، خاص طور پر عوامی زندگی سے وابستہ خواتین، اکثر سوشل میڈیا پر تمسخر، ذاتی حملوں اور غیر سنجیدہ تبصروں کا نشانہ بنتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ رویہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ خواتین کے مقام کو بھی کمزور کرتا ہے۔
اس افواہ نے اس لیے بھی زیادہ توجہ حاصل کی کیونکہ کنگنا رناوت حالیہ مہینوں میں راہل گاندھی پر کھل کر تنقید کرتی رہی ہیں۔ مارچ 2026 میں انہوں نے پارلیمان میں راہل گاندھی کے رویے پر سخت اعتراض اٹھایا تھا اور الزام لگایا تھا کہ ان کے انداز سے خواتین ارکان کو بے چینی محسوس ہوئی۔ ایسے پس منظر میں شادی سے متعلق یہ منسوب بیان شروع ہی سے مشکوک دکھائی دیتا تھا۔
کنگنا رناوت اپنی بے باک رائے اور غیر متوقع بیانات کی وجہ سے اکثر خبروں میں رہتی ہیں۔ لیکن اس بار انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ایک وائرل میم یا جھوٹی پوسٹ کو ان کے اصل بیان کے طور پر پیش کرنا ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر سنسنی پھیلانے کے لیے کسی خاتون سیاست دان کو نشانہ بنانا افسوسناک عمل ہے۔
تاحال راہل گاندھی کی جانب سے اس وائرل دعوے یا کنگنا کی تردید پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات کس تیزی سے پھیلتی ہیں، خاص طور پر جب معاملہ سیاست، شہرت اور عوامی دلچسپی رکھنے والی شخصیات سے متعلق ہو۔
یہ تنازع محض ایک جھوٹی خبر کا معاملہ نہیں، بلکہ اس بڑے سوال کی یاد دہانی بھی ہے کہ ڈیجیٹل دور میں سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق قائم رکھنا کتنا ضروری ہو گیا ہے۔
