ایران سے جڑی جنگ اور اس کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتِ حال میں چین ایک نہایت باریک توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف وہ تہران کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو بچانا چاہتا ہے، اور دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ اتنی گنجائش بھی رکھنا چاہتا ہے کہ تجارت، پابندیوں اور بڑی طاقتوں کی رقابت میں اس کے مفادات متاثر نہ ہوں۔ بیجنگ کا سرکاری مؤقف اب تک یہی رہا ہے کہ جنگ بندی ہونی چاہیے، کشیدگی کم کی جائے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے، مگر اس سفارتی زبان کے پیچھے تیل، علاقائی رسوخ اور عالمی طاقت کے توازن کی ایک سخت حقیقت موجود ہے۔
اس ساری صورتحال کا سب سے اہم پہلو توانائی ہے۔ آبنائے ہرمز میں بدستور بے یقینی پائی جاتی ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس سے عالمی منڈی تک بڑی مقدار میں تیل پہنچتا ہے۔ امریکہ نے حالیہ دنوں میں کہا کہ اس نے بحری آمدورفت کو بحال رکھنے کی کوششیں تیز کی ہیں، کیونکہ ایران سے منسلک حملوں اور ردعمل نے پہلے سے کمزور جنگ بندی کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ چین کے لیے یہ معاملہ معمولی نہیں؛ اس کی معیشت درآمدی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، اور خلیج میں کسی بھی بڑی رکاوٹ کا سیدھا اثر بیجنگ پر پڑتا ہے۔
دوسری طرف واشنگٹن نے چین کے لیے ایک اور مشکل کھڑی کر دی ہے۔ یکم مئی کو امریکی محکمہ خارجہ اور محکمہ خزانہ نے اعلان کیا کہ ایران۔چین تیل تجارت پر مزید پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان اقدامات کا ہدف وہ چین سے جڑے ادارے اور ریفائنریز ہیں جو ایرانی خام تیل کی خرید و فروخت میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات چین خریدتا ہے، جن میں سے ایک بڑی مقدار شینڈونگ کی آزاد یا نام نہاد “ٹی پاٹ” ریفائنریز میں جاتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو بتاتی ہے کہ بیجنگ آسانی سے تہران سے فاصلہ اختیار نہیں کر سکتا، چاہے جنگ نے اس تعلق کو پہلے سے زیادہ حساس اور مہنگا ہی کیوں نہ بنا دیا ہو۔
چین اس وقت بیک وقت دو پیغامات دے رہا ہے۔ ایک، وہ خود کو ایک ذمہ دار سفارتی قوت کے طور پر پیش کر رہا ہے جو جنگ بندی، مذاکرات اور علاقائی استحکام کی بات کرتی ہے۔ دو، وہ ایران کے ساتھ اپنے رابطے بھی برقرار رکھے ہوئے ہے تاکہ مستقبل میں توانائی، تجارت اور خطے میں اثر و رسوخ کے اپنے مفادات محفوظ رکھ سکے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے حالیہ بیانات میں بیجنگ کے مؤقف کو “معروضی اور غیر جانب دار” قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر جنگ پھیلی تو پورا خطہ عدم استحکام کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
لیکن اس کہانی کا ایک اور رخ بھی ہے، اور شاید اصل رخ یہی ہے۔ اگر امریکہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں مزید الجھتا ہے تو اس کی توجہ، عسکری صلاحیت اور سفارتی توانائی لازماً ایشیا سے ہٹتی ہے۔ چین کھل کر شاید یہ بات نہ کہے، مگر طویل کشیدگی اسے کچھ مواقع ضرور دے سکتی ہے: واشنگٹن کی توجہ بٹ سکتی ہے، امریکی اتحادیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، اور بیجنگ یہ مؤقف مزید زور سے پیش کر سکتا ہے کہ امریکی سکیورٹی ماڈل استحکام نہیں بلکہ مزید بے ترتیبی پیدا کرتا ہے۔ یہ نتیجہ چین کے سرکاری بیانات اور موجودہ جغرافیائی سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے اخذ کیا جا سکتا ہے، اگرچہ بیجنگ نے اسے اس شکل میں براہِ راست تسلیم نہیں کیا۔
اس کے باوجود چین کے لیے راستہ اتنا آسان نہیں جتنا باہر سے دکھائی دیتا ہے۔ اگر ایران خلیج میں زیادہ جارحانہ قدم اٹھاتا ہے تو تیل کی قیمتوں میں جھٹکا چین کو بھی لگے گا۔ اگر ٹرمپ انتظامیہ پابندیوں کے نفاذ کو مزید سخت کرتی ہے تو چینی کمپنیاں اور ریفائنریز دباؤ میں آ جائیں گی۔ اور اگر بیجنگ بہت کھل کر تہران کے ساتھ کھڑا نظر آیا تو امریکہ کے ساتھ اس کی پہلے سے کشیدہ تعلقات میں نئی تلخی پیدا ہو سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، چین فائدہ تو چاہتا ہے، مگر افراتفری نہیں۔ یہی اس کی اصل آزمائش ہے۔
فی الحال لگتا یہی ہے کہ بیجنگ ابہام کے اسی دائرے میں رہنا چاہتا ہے۔ وہ جنگ کی مخالفت کر سکتا ہے، ایران سے رابطہ بھی جاری رکھ سکتا ہے، امریکی دباؤ پر تنقید بھی کر سکتا ہے، اور ساتھ ہی اپنی معیشت کے لیے اہم تجارتی اور توانائی کے راستوں کو بھی بچانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ مگر جنگیں اکثر سفارتی گنجائش کو تنگ کر دیتی ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز کا بحران مزید بگڑتا ہے یا امریکی پابندیاں زیادہ مؤثر ہو جاتی ہیں، تو پھر چین کو بالآخر یہ واضح کرنا پڑ سکتا ہے کہ وہ واقعی غیر جانب دار ثالث ہے، ایران کا اسٹریٹجک شراکت دار ہے، یا محض ایک ایسی طاقت جو دوسروں کے بحران میں اپنا فائدہ ڈھونڈ رہی ہے۔
