جمعیت علمائے اسلام (ف) نے خیبر پختونخوا میں پارٹی رہنما مولانا ادریس کے ٹارگٹ کلنگ کے واقعے کے بعد بدھ اور جمعہ کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔
پارٹی قیادت نے تصدیق کی ہے کہ مظاہرے ملک کے بڑے شہروں میں کیے جائیں گے، جن میں اسلام آباد اور پشاور میں مرکزی ریلیاں نکالی جائیں گی۔ یہ اقدام صوبائی حکومت کے لیے ایک براہ راست چیلنج ہے، جس پر جے یو آئی (ف) نے خطے میں بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا ہے۔
مولانا ادریس کو رواں ہفتے کے آغاز میں نامعلوم افراد نے دن دیہاڑے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے نے صوبے میں مذہبی اور سیاسی شخصیات کے خلاف ٹارگٹ کلنگ کے نئے سلسلے کے خدشات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
جے یو آئی (ف) کے ترجمان اسلم غوری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہمیں گولیوں سے خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔” انہوں نے بتایا کہ پارٹی کی صوبائی قیادت احتجاجی راستوں کو حتمی شکل دینے کے لیے اجلاس کر رہی ہے اور خبردار کیا کہ مظاہرے تب تک جاری رہیں گے جب تک قاتلوں کی شناخت اور گرفتاری عمل میں نہیں آتی۔
جے یو آئی (ف) کے لیے یہ محض ایک قتل کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایک نازک موڑ ہے۔ پارٹی بارہا خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کے معاملات پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے اور اس کا موقف ہے کہ صوبائی انتظامیہ امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ یہ احتجاج وفاقی حکومت کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ سیکیورٹی خلا کے حوالے سے پارٹی کا صبر اب جواب دے چکا ہے۔
صورتحال کشیدہ ہے۔ حکام نے احتجاج کے پیشِ نظر پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، کیونکہ خدشہ ہے کہ پارٹی کارکنوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
کیا یہ احتجاج سیکیورٹی پالیسی میں تبدیلی لانے پر مجبور کرے گا یا خیبر پختونخوا میں سیاسی خلیج کو مزید گہرا کر دے گا، یہ وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب آنے والے دنوں میں ملے گا۔ فی الحال، جے یو آئی (ف) سڑکوں پر طاقت کے اظہار کو ہی اپنا آخری آپشن سمجھ رہی ہے۔
