وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر مستقبل میں پاکستان کے خلاف کسی بھی نوعیت کی “غلط فہمی” یا “مس کیلکولیشن” کی گئی تو اسلام آباد کا جواب پہلے سے زیادہ شدید اور فیصلہ کن ہوگا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کی جانب سے پاکستان کو کسی بھی “مِس ایڈونچر” سے خبردار کرنے والے ریمارکس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان لفظی کشیدگی ایک بار پھر نمایاں ہو گئی۔
خواجہ آصف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا حامی ہے، مگر اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ “مارکۂ حق” ابھی پاکستان کی یادداشت میں تازہ ہے اور آئندہ اگر کوئی غلط اندازہ لگایا گیا تو ردعمل “مزید طاقتور اور فیصلہ کن” ہوگا۔ یہی جملہ اس بیان کا مرکزی نکتہ بن کر سامنے آیا ہے۔
“مارکۂ حق” سے مراد وہ فوجی اور سفارتی کشیدگی ہے جسے پاکستانی عسکری اور سرکاری بیانیے میں اپریل 2025 کے پہلگام حملے کے بعد شروع ہونے والے بحران اور 10 مئی 2025 تک کے تصادم کے تناظر میں بیان کیا گیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اس پوری مدت کو “مارکۂ حق” کا نام دیا، جبکہ اسلام آباد نے ابتدا ہی سے پہلگام حملے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
اس تازہ بیان کی اہمیت صرف سخت لہجے میں نہیں، بلکہ اس کے سیاسی پس منظر میں بھی ہے۔ خواجہ آصف نے بھارتی طرزِ عمل کو ایک “قابلِ پیش گوئی” رویہ قرار دیا اور الزام لگایا کہ نئی دہلی داخلی دباؤ سے توجہ ہٹانے کے لیے بیرونی محاذ پر کشیدگی کو ہوا دیتا ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں یہ مؤقف نمایاں رہا، جبکہ بھارتی میڈیا نے اسے راج ناتھ سنگھ کے سخت بیان کے جواب کے طور پر پیش کیا۔
بھارتی مؤقف بھی کم سخت نہیں تھا۔ مختلف بھارتی رپورٹس کے مطابق راج ناتھ سنگھ نے پہلگام حملے کی برسی کے پس منظر میں خبردار کیا کہ پاکستان کی کسی بھی نئی مہم جوئی کا جواب “غیر معمولی” اور “فیصلہ کن” ہوگا۔ اس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ دونوں جانب برسی کے موقع پر سکیورٹی بیانیہ محض یادداشت نہیں، بلکہ موجودہ سفارتی اشاروں کا حصہ بھی ہے۔
حالیہ بیانات کے باوجود فوری طور پر کسی نئی فوجی پیش رفت کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ تاہم یہ تبادلۂ بیانات اس حقیقت کو پھر نمایاں کرتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات اب بھی عدم اعتماد، ماضی کے تنازعات اور جوابی کارروائی کی زبان کے گرد گھومتے ہیں۔ اور جب دونوں طرف کے وزرائے دفاع ایک ہی دورانئے میں “مِس ایڈونچر”، “مس کیلکولیشن” اور “فیصلہ کن جواب” جیسی اصطلاحات استعمال کریں، تو خطے میں تشویش بڑھنا ایک فطری امر بن جاتا ہے۔
