ریاض، 22 جولائی: سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک اہم سفارتی کامیابی حاصل کر لی ہے، کیونکہ امریکہ نے مملکت کے ساتھ سویلین جوہری تعاون کے ایک تاریخی معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مجوزہ 30 سالہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو اپنے سویلین جوہری توانائی پروگرام کو فروغ دینے میں امریکی تعاون حاصل ہوگا، جو مملکت کے ویژن 2030 کے تحت معیشت کو تیل پر انحصار سے نکالنے کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
معاہدے کے مطابق، مخصوص شرائط کے تحت سعودی عرب کو پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ (Enrich) کرنے کی اجازت مل سکتی ہے، جبکہ امریکی کمپنیاں سعودی عرب کے جوہری انفراسٹرکچر کی تعمیر اور ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی۔ تاہم، معاہدہ نافذ ہونے سے قبل امریکی کانگریس کی منظوری بھی درکار ہوگی۔
اس معاہدے کو ولی عہد محمد بن سلمان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ کئی برسوں سے امریکہ کے تعاون سے سعودی عرب کا سویلین جوہری پروگرام قائم کرنے کے خواہاں تھے۔ ماضی کی تجاویز کے برعکس، موجودہ معاہدہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی سے مشروط نہیں، جس سے ایک بڑی سیاسی رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔
دوسری جانب، اس معاہدے پر عدم پھیلاؤِ جوہری ہتھیار (Non-Proliferation) کے ماہرین اور بعض امریکی قانون سازوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سخت ترین بین الاقوامی حفاظتی شرائط کے بغیر یورینیم افزودگی کی اجازت مشرقِ وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ ہفتوں میں امریکی کانگریس اس معاہدے کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
