فیفا نے ایرانی فٹ بال فیڈریشن (FFIRI) کے اعلیٰ حکام کو ہنگامی مشاورت کے لیے زیورخ میں اپنے ہیڈ کوارٹر طلب کر لیا ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران میں خواتین شائقین اور کھلاڑیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر عالمی سطح پر تنقید اور دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اگرچہ فیفا حکام نے اس ملاقات کا تعلق براہِ راست کسی ممکنہ پابندی سے نہیں جوڑا، لیکن اس کا وقت بہت اہم ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور ایران کے سابق کھلاڑیوں کی جانب سے فیفا پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ایران کو عالمی مقابلوں سے باہر کرے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اسٹیڈیمز میں خواتین کی شمولیت پر پابندی اور حالیہ عوامی مظاہروں کی حمایت کرنے والے کھلاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر ایران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
معاملے سے واقف ایک ترجمان نے کہا کہ "یہ ملاقات فٹ بال آپریشنز کے انتظامی جائزے کا حصہ ہے،” تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا ایجنڈے میں فیفا کے امتیازی سلوک مخالف قوانین پر عمل درآمد کا معاملہ شامل ہے یا نہیں۔
ایران کے لیے اس وقت داؤ پر بہت کچھ لگا ہے۔ اگر فیفا کی جانب سے پابندی لگتی ہے تو ایران ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ راؤنڈز سے باہر ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف فیڈریشن کو ملنے والی فنڈنگ رک جائے گی بلکہ بین الاقوامی سطح پر اس کی ساکھ کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
ایرانی فٹ بال فیڈریشن کا موقف ہے کہ وہ حکومتی مداخلت سے آزاد ہو کر کام کر رہی ہے، لیکن عالمی مبصرین اکثر اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہیں۔ فیفا کے قوانین کسی بھی قومی فٹ بال ایسوسی ایشن میں سیاسی مداخلت کی سختی سے ممانعت کرتے ہیں، تاہم ایران میں کھیل اور ریاستی پالیسی کا باہمی تعلق برسوں سے تنازع کا باعث رہا ہے۔
تہران کے حکام کو زیورخ طلب کیے جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ماضی میں ایسی ملاقاتوں کے بعد خواتین کے لیے اسٹیڈیم تک رسائی کے حوالے سے محدود اور عارضی مراعات دی گئی تھیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صرف دکھاوے کے تھے اور ان سے بنیادی پابندیوں کا کوئی حل نہیں نکلا۔
فیفا کے صدر گیانی انفنٹینو اس ملاقات کی قیادت کریں گے۔ ان کے سامنے ایک مشکل چیلنج ہے: انسانی حقوق پر تنظیم کے مؤقف کو برقرار رکھنا اور ساتھ ہی کسی بڑی ٹیم کو عالمی مقابلوں سے باہر کرنے کے سیاسی مضمرات کو سنبھالنا۔
یہ ملاقات کسی بڑی پالیسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی یا محض ایک آخری تنبیہ، اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ تاہم یہ واضح ہے کہ ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے پاس اب یہ ثابت کرنے کے لیے وقت کم ہے کہ ان کا نظام عملی طور پر سب کے لیے کھلا ہے۔
