سندھ ہائی کورٹ نے بی آر ٹی دفتر کو سیل کرنے کا اقدام غیر قانونی قرار دے دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو یونیورسٹی روڈ سے متعلق معاملات مقررہ مدت میں نمٹانے کی ہدایت کردی۔
سماعت کے دوران عدالت نے منصوبے میں تاخیر اور انتظامی اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ عوامی مفاد کے ترقیاتی منصوبوں کو غیر قانونی اقدامات کے ذریعے متاثر نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ بی آر ٹی دفتر کی سیلنگ کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا، اس لیے متعلقہ حکام قانون کے مطابق فوری اقدامات کریں۔
عدالت نے یونیورسٹی روڈ سے متعلق کام یا درپیش مسائل کے حل کے لیے بھی ڈیڈ لائن مقرر کی۔ یونیورسٹی روڈ کراچی کی اہم شاہراہوں میں شامل ہے، جہاں جاری تاخیر کے باعث شہریوں کو ٹریفک جام، سفری مشکلات اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ کا سامنا ہے۔
عدالت نے منصوبے سے منسلک حکام کو پیش رفت سے متعلق رپورٹ جمع کرانے اور کام میں مزید غیر ضروری تاخیر سے بچنے کی ہدایت بھی کی۔
یہ معاملہ کراچی میں شہری انفراسٹرکچر منصوبوں میں تاخیر، اداروں کے درمیان رابطے کے فقدان اور انتظامی مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔
