پاکستان کو بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ سے قبل بڑا دھچکا لگا ہے، کیونکہ بابر اعظم بائیں گھٹنے کی انجری کے باعث میچ سے باہر ہو گئے ہیں۔ ڈھاکا میں 8 مئی سے شروع ہونے والے اس ٹیسٹ سے پہلے ان کی عدم دستیابی پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کے لیے ایک اہم نقصان سمجھی جا رہی ہے۔
یہ مسئلہ جمعرات کے تربیتی سیشن کے دوران سامنے آیا، جب بابر اعظم نے پریکٹس مکمل ہونے سے پہلے میدان چھوڑ دیا۔ بعد ازاں ان کے بائیں گھٹنے کا ایم آر آئی کرایا گیا، جس کے بعد ٹیم انتظامیہ اور میڈیکل اسٹاف نے انہیں پہلے ٹیسٹ سے باہر رکھنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ سیریز کے دوسرے ٹیسٹ کے لیے دستیاب ہوں گے یا نہیں۔
پاکستانی ٹیم کے لیے یہ خبر صرف ایک فٹنس اپ ڈیٹ نہیں، بلکہ ایک بڑا اسپورٹس معاملہ ہے۔ بابر اعظم اب بھی ٹیم کے سب سے تجربہ کار اور قابلِ اعتماد بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں، اور مشکل حالات میں ان سے طویل اننگز کی توقع رکھی جاتی ہے۔ ڈھاکا کی وکٹ، جو وقت گزرنے کے ساتھ بیٹرز کے لیے زیادہ مشکل ہو سکتی ہے، وہاں ان کی غیر موجودگی مزید محسوس کی جائے گی۔
اس انجری کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ بابر اعظم کی فارم، ٹیم میں کردار اور حالیہ مہینوں میں ان کی پوزیشن پہلے ہی بحث کا موضوع بنی ہوئی تھی۔ بنگلہ دیش کے خلاف محدود اوورز کی سیریز کے لیے ان کی عدم شمولیت نے بھی کئی سوالات کھڑے کیے تھے، اور اب ٹیسٹ سیریز کے آغاز سے ٹھیک پہلے انجری نے ایک نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
پاکستان اس دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں بہتر آغاز کا خواہاں تھا۔ ٹیم کے لیے یہ موقع تھا کہ وہ حالیہ غیر یقینی ماحول کے بعد ریڈ بال کرکٹ میں مضبوط واپسی کرے۔ مگر بابر اعظم کی انجری نے سیریز کے آغاز سے پہلے ہی توجہ میدان سے ہٹا کر ٹیم کمبی نیشن اور سلیکشن پر مرکوز کر دی ہے۔
اب سب سے اہم سوال یہی ہے کہ بابر اعظم کی انجری کتنی سنگین ہے۔ اگر وہ صرف پہلے ٹیسٹ تک محدود رہتے ہیں تو پاکستان کے لیے یہ وقتی نقصان ہوگا، لیکن اگر مسئلہ زیادہ سنجیدہ نکلا تو یہ پوری سیریز، اور شاید آنے والے شیڈول، پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
بنگلہ دیش کے لیے، دوسری طرف، یہ خبر حوصلہ افزا ہے۔ بابر اعظم جیسے بیٹر کی موجودگی ہمیشہ حریف ٹیم کے منصوبے بدل دیتی ہے۔ ان کے بغیر پاکستان کی بیٹنگ نسبتاً کم تجربہ کار اور زیادہ دباؤ میں دکھائی دے سکتی ہے، خاص طور پر اگر آغاز اچھا نہ ہو۔
فی الحال صورتِ حال یہی ہے: پاکستان ڈھاکا ٹیسٹ میں اپنے ایک بڑے نام کے بغیر میدان میں اترے گا، جبکہ ٹیم اب بھی یہ جاننے کی منتظر ہے کہ بابر اعظم سیریز میں مزید حصہ لے سکیں گے یا نہیں۔
