لکی مروت — خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں منگل کی صبح ایک مسافر وین کے قریب سڑک کنارے نصب بم دھماکے میں 9 افراد جاں بحق ہوگئے۔ پولیس کے مطابق مرنے والوں میں چار بچے اور دو خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ اس واقعے نے علاقے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
دھماکہ میلہ مندرخیل کے علاقے میں پیش آیا۔ وین ایک مقامی گاؤں سے مرکزی شہر کی جانب جارہی تھی کہ سڑک کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ گاڑی الٹ گئی اور اس میں سوار افراد کو سنبھلنے کا موقع نہ مل سکا۔
ایک مقامی پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا،
“یہ شہریوں کو نشانہ بنانے والی کارروائی تھی۔ دھماکا اتنا طاقتور تھا کہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔”
ریسکیو اہلکاروں نے سخت سیکیورٹی میں زخمیوں اور لاشوں کو ملبے سے نکالا۔ مقامی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، جہاں زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث طبی عملے کو مشکلات کا سامنا ہے۔ کم از کم چار زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے اور ڈاکٹروں نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا تاکہ حملہ آوروں کا سراغ لگایا جاسکے۔ ابھی تک کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم ضلع میں گزشتہ ایک سال کے دوران شدت پسند سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔
لکی مروت سابق قبائلی علاقوں کے قریب واقع ہے، جہاں شدت پسند گروہ سیکیورٹی قافلوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی مسلسل نشانہ بنارہے ہیں۔ منگل کا حملہ حالیہ مہینوں میں ہونے والے متعدد چھوٹے مگر مہلک واقعات کا تسلسل ہے، جنہوں نے مقامی آبادی کو خوف میں مبتلا کردیا ہے۔
صوبائی حکومت نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مکمل تحقیقات کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن میلہ مندرخیل کے متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ بیانات کم تسلی رکھتے ہیں۔ تفتیشی ٹیمیں ملبے کا جائزہ لے رہی ہیں، جبکہ علاقے کے لوگ اپنے پیاروں کو سپردِ خاک کرنے اور اگلے ممکنہ حملے کے خوف میں مبتلا ہیں۔