ویٹیکن میں منعقدہ ایک اہم بین المذاہب اجلاس کے دوران پوپ لیو چهاردہم نے مسلمانوں اور مسیحیوں پر زور دیا ہے کہ وہ دنیا میں بڑھتی ہوئی نفرت، بے حسی، جنگ اور تقسیم کے ماحول کے خلاف متحد ہو کر انسانیت، ہمدردی اور امن کو فروغ دیں۔
پوپ لیو چهاردہم نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج دنیا کو سب سے زیادہ رحم، محبت اور انسانی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اور مسیحی مل کر دنیا میں امن، برداشت اور بھائی چارے کا ایسا ماحول پیدا کر سکتے ہیں جو نفرت اور دشمنی کو شکست دے سکے۔
انہوں نے کہا:
“دنیا سرد مہری اور بے حسی کا شکار ہو چکی ہے، ایسے وقت میں مذاہب کو انسانیت کو دوبارہ زندہ کرنے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔”
یہ اجلاس ویٹیکن میں اردن کے بین المذاہب مطالعاتی ادارے اور ویٹیکن کے مذہبی مکالمہ مرکز کے اشتراک سے منعقد ہوا، جس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں، علماء اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں عالمی امن، مہاجرین کی مدد، جنگ متاثرین کی بحالی اور مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
پوپ لیو چهاردہم نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے اس دور میں لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد سے دور ہوتے جا رہے ہیں، اس لیے مذہبی رہنماؤں اور مذاہب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لائیں اور محبت، رحم اور خدمتِ انسانیت کا پیغام عام کریں۔
ویٹیکن کی جانب سے جاری بیان میں جنگوں، غربت اور بے گھری کا شکار افراد کی مدد کو مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری قرار دیا گیا۔ پوپ لیو چهاردہم نے خاص طور پر مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان تعاون کو عالمی امن اور استحکام کے لیے انتہائی ضروری قرار دیا۔
